الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب اغتسال الصائم:
باب: روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1932
ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: مِثْلَ ذَلِكَ.
اس کے بعد ہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1932]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1932 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1932
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بھی ہر دو مسئلے ثابت ہوئے روزہ دار کے لیے غسل کا جائز ہونا اور بحالت روزہ غسل جنابت فجر ہونے کے بعد کرنا چوں کہ شریعت میں ہر ممکن آسانی پیش نظر رکھی گئی ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوہ حسنہ سے عملاً یہ آسانیاں پیش کی ہیں۔
اس حدیث سے بھی ہر دو مسئلے ثابت ہوئے روزہ دار کے لیے غسل کا جائز ہونا اور بحالت روزہ غسل جنابت فجر ہونے کے بعد کرنا چوں کہ شریعت میں ہر ممکن آسانی پیش نظر رکھی گئی ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوہ حسنہ سے عملاً یہ آسانیاں پیش کی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1932]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1932
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں:
٭ روزے کی حالت میں غسل جنابت فجر کے بعد نماز سے پہلے کرنا۔
٭ روزے دار کے لیے غسل کا جائز ہونا۔
شریعت مطہرہ میں ہر ممکن بندوں کی سہولت پیش نظر رکھی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوۂ مبارکہ سے عملاً یہ آسانیاں پیش کی ہیں۔
(2)
ان احادیث کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے صحبت کرتے، اگر سوتے سوتے صبح ہو جاتی تو حالت جنابت میں روزہ رکھ لیتے، پھر غسل کر کے نماز پڑھتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جنابت روزے کے منافی نہیں۔
(1)
ان احادیث سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں:
٭ روزے کی حالت میں غسل جنابت فجر کے بعد نماز سے پہلے کرنا۔
٭ روزے دار کے لیے غسل کا جائز ہونا۔
شریعت مطہرہ میں ہر ممکن بندوں کی سہولت پیش نظر رکھی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوۂ مبارکہ سے عملاً یہ آسانیاں پیش کی ہیں۔
(2)
ان احادیث کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے صحبت کرتے، اگر سوتے سوتے صبح ہو جاتی تو حالت جنابت میں روزہ رکھ لیتے، پھر غسل کر کے نماز پڑھتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جنابت روزے کے منافی نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1932]