🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب من أقسم على أخيه ليفطر فى التطوع ولم ير عليه قضاء، إذا كان أوفق له:
باب: کسی نے اپنے بھائی کو نفلی روزہ توڑنے کے لیے قسم دی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1968
وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِ قَضَاءً، إِذَا كَانَ أَوْفَقَ لَهُ
‏‏‏‏ اور اس نے روزہ توڑ دیا تو توڑنے والے پر قضاء واجب نہیں ہے جب کہ روزہ نہ رکھنا اس کو مناسب ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: Q1968]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1968
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ: فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ لَهَا: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ: كُلْ، قَالَ: فَإِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ، قَالَ: فَأَكَلَ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ، ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ، قَالَ: نَمْ، فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ، فَقَالَ: نَمْ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، قَالَ سَلْمَانُ: قُمْ الْآنَ فَصَلَّيَا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ"، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ان سے ابوالعمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی حجیفہ نے اور ان سے ان کے والد (وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ میں (ہجرت کے بعد) بھائی چارہ کرایا تھا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو (ان کی عورت) ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بہت پراگندہ حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ کھانے میں شریک ہو گئے (اور روزہ توڑ دیا) رات ہوئی تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو ادا کرنا چاہئے، پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1968]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے مابین بھائی چارہ کرا دیا تھا، چنانچہ ایک دن حضرت سلمان رضی اللہ عنہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے تو انہوں نے ام درداء رضی اللہ عنہا کو انتہائی پراگندہ حالت میں دیکھا۔ انہوں نے ان سے دریافت کیا: تمہارا کیا حال ہے؟ وہ بولیں کہ تمہارے بھائی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دنیا کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اتنے میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بھی آگئے، انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا، پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے گویا ہوئے: تم کھاؤ میں تو روزے سے ہوں۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تک تم نہیں کھاؤ گے میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ بالآخر حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کھانا تناول کیا۔ جب رات ہوئی تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نماز کے لیے اٹھے تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: سو جاؤ، چنانچہ وہ سو گئے۔ تھوڑی دیر بعد پھر اٹھنے لگے تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ابھی سوئے رہو۔ جب آخر شب ہوئی تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اب اٹھو، چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے کہا: بے شک تم پر تمہارے رب کا بھی حق ہے، نیز تمہاری جان اور تمہاری اہلیہ کا بھی تم پر حق ہے، لہذا تمہیں سب کے حقوق ادا کرنے چاہئیں۔ پھر حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے یہ سب معاملہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمان نے سچ کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1968]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفةصحابي
👤←👥عون بن أبي جحيفة السوائي
Newعون بن أبي جحيفة السوائي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة
👤←👥عتبة بن عبد الله المسعودي، أبو العميس
Newعتبة بن عبد الله المسعودي ← عون بن أبي جحيفة السوائي
ثقة
👤←👥جعفر بن عون القرشي، أبو عون
Newجعفر بن عون القرشي ← عتبة بن عبد الله المسعودي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← جعفر بن عون القرشي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1968 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1968
حدیث حاشیہ:
عبادت الٰہی کے متعلق کچھ غلط تصورات ادیان عالم میں پہلے ہی سے پائے جاتے رہے ہیں۔
ان ہی غلط تصورات کی اصلاح کے لیے پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔
ابتدائے اسلام میں بعض صحابہ بھی ایسے تصورات رکھتے تھے۔
جن میں سے ایک حضرت ابودردا ؓ بھی تھے جو یہ تصور رکھتے کہ نفس کشی بایں طور کرنا کہ جائز حاجات بھی ترک کرکے حتی کہ رات کو آرام ترک کرنا، دن میں ہمیشہ روزہ سے رہنا ہی عبادت ہے اور یہی اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
حضرت سلمان ؓ نے ان کے اس تصور کی عملاً اصلاح فرمائی اور بتلایا کہ ہر صاحب حق کاحق ادا کرنا یہ بھی عبادت الٰہی ہی میں داخل ہے، بیوی کے حقوق ادا کرنا، جس میں اس سے جماع کرنا بھی داخل ہے۔
اور رات میں آرام کی نیند سونا اور دن میں متواتر نفل روزوں کی جگہ کھانا پینا یہ سب امور داخل عبادت ہیں۔
ان ہر دو بزرگ صحابیوں کا جب یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ نے حضرت سلمان کی تائید فرمائی اور بتلایا کہ عبادت الٰہی کا حقیقی تصور یہی ہے کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بلکہ حقوق النفس بھی ادا کئے جائیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1968]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1968
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان سے امام بخاری ؒ نے نفلی روزوں کے مسائل و احکام بیان کرنے کا آغاز فرمایا ہے۔
ان کے متعلق پہلا مسئلہ یہ بیان کیا کہ نفلی روزہ رکھنے کے بعد اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔
اگر اسے کسی ضرورت کے پیش نظر توڑ دیا جائے تو کیا اس کی قضا دینا لازم ہے یا نہیں؟ عنوان سے امام بخاری ؒ کا یہ رجحان معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی سبب کے پیش نظر اسے توڑا جائے تو اس کی قضا ضروری نہیں۔
اگر بلاوجہ اسے قبل از وقت افطار کر دیا جائے تو اس کی قضا دی جائے۔
اگرچہ پیش کردہ روایت میں قسم دینے کا ذکر نہیں ہے، تاہم سنن بیہقی میں ہے کہ حضرت سلمان ؓ نے فرمایا:
میں تجھے روزہ چھوڑ دینے کے متعلق قسم دیتا ہوں۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 276/4) (2)
پیش کردہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزہ کس معقول وجہ سے توڑا جا سکتا ہے اور اس کا پورا کرنا ضروری نہیں اور نہ اس کی قضا دینا ہی ضروری ہے ہاں، اگر آدمی چاہے تو بعد میں اس کی جگہ اور روزہ رکھ لے جیسا کہ حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت تشریف لائے۔
جب کھانا سامنے پیش کر دیا گیا تو ایک آدمی نے کہا:
میں روزے سے ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تمہارے بھائی نے تمہارے لیے کھانا تیار کیا ہے اور بڑے تکلف سے کام لیا ہے۔
اپنا روزہ افطار کر دو اور اگر چاہو تو بعد میں اس کی جگہ ایک روزہ رکھ لو۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 279/4)
ان روایات کا تقاضا ہے کہ نفلی روزہ کسی وجہ سے توڑا جا سکتا ہے اور اس کی قضا دینا ضروری نہیں اور قضاء کے وجوب پر جو روایات پیش کی جاتی ہیں وہ قابل حجت نہیں ہیں۔
(فتح الباري: 270/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1968]

Sahih Bukhari Hadith 1968 in Urdu