🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ذكر القين والحداد:
باب: کاریگروں اور لوہاروں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ:" كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ، أَتَقَاضَاهُ؟ قَالَ: لَا، أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ، فَسَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ، فَنَزَلَتْ: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا {77} أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا {78} سورة مريم آية 77-78".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہ جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل (کافر) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا (آخرت میں) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خباب بن الأرت التميمي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← خباب بن الأرت التميمي
ثقة
👤←👥مسلم بن صبيح الهمداني، أبو الضحى
Newمسلم بن صبيح الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن صبيح الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو
Newمحمد بن إبراهيم السلمي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن إبراهيم السلمي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2091 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2091
حدیث حاشیہ:
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے، ان کو زمانہ جاہلیت میں ظالموں نے قید کر لیا تھا۔
ایک خزاعیہ عورت نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں داخل ہونے سے پہلے ہی یہ اسلام لا چکے تھے۔
کفار نے ان کو سخت تکالیف میں مبتلا کیا۔
مگر انہوں نے صبر کیا۔
کوفہ میں اقامت گزیں ہو گئے تھے اور 73 سال کی عمر میں 37ھ میں وہیں ان کا انتقال ہوا۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے لوہار کا کام کرنا ثابت فرمایا، قرآن مجید سے ثابت ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام بھی لوہے کے بہترین ہتھیار بنایا کرتے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2091]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2091
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں برے ساتھی کو لوہار کی بھٹی سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بظاہر اس حدیث سے لوہار کی قباحت معلوم ہوتی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ عنوان اور پیش کردہ حدیث سے اس کی وضاحت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہ پیشہ موجود تھا،اس لیے یہ پیشہ اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ حضرت داود علیہ السلام بھی لوہے کے پیشے سے منسلک تھے اور وہ اس سے بہترین ہتھیاربنایا کرتے تھے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے عمل جاہلیت سے استدلال کیا ہے کہ اگر یہ پیشہ حرام ہوتا تو مسلمان ہونے کے بعد اس عمل حرام سے واجب شدہ قرض کا مطالبہ نہ کرتے۔
حدیث کے ظاہر الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے جاہلیت کے عمل کی اجرت طلب کی۔
ویسے حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کے بعد بھی اس پیشے کو اختیار کیے رکھا جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الاجارہ میں اسے ثابت کیا۔
(صحیح البخاری،الاجارۃ،حدیث: 2275)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2091]

Sahih Bukhari Hadith 2091 in Urdu