🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب السلم فى وزن معلوم:
باب: بیع سلم مقررہ وزن کے ساتھ جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ"، وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی مجالد نے (تیسری سند) اور ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے محمد بن ابی مجالد نے۔ (دوسری سند) ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے محمد اور عبداللہ بن ابی مجالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن شداد بن الہاد اور ابوبردہ میں بیع سلم کے متعلق باہم اختلاف ہوا۔ تو ان حضرات نے مجھے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ چنانچہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں گیہوں، جَو، منقی اور کھجور کی بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاويةصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي المجالد الكوفي
Newعبد الله بن أبي المجالد الكوفي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن أبي المجالد الكوفي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر
Newحفص بن عمر الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن أبي المجالد الكوفي
Newعبد الله بن أبي المجالد الكوفي ← حفص بن عمر الأزدي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن أبي المجالد الكوفي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا
Newيحيى بن موسى الحداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي المجالد الكوفي
Newعبد الله بن أبي المجالد الكوفي ← يحيى بن موسى الحداني
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن أبي المجالد الكوفي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2242 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2242
حدیث حاشیہ:
حافظ فرماتے ہیں:
أجمعوا علی أنه إن کان في السلم ما یکال أو یوزن فلا بد فیه من ذکر الکیل المعلوم و الوزن المعلوم فإن کان فیما لا یکال و لا یوزن فلا بد فیه من عدد معلوم۔
یعنی اس امر پر اجماع ہے کہ بیع سلم میں جو چیزیں ماپ یا وزن کے قابل ہیں ان کا وزن مقرر ہونا ضروری ہے اور جو چیزیں محض عدد سے تعلق رکھتی ہیں ان کی تعداد کا مقرر ہونا ضروری ہے۔
حدیث مذکورہ سے معلوم ہوا کہ مدینہ میں اس قسم کے لین دین کا عام رواج تھا۔
فی الحقیقت کاشتکاروں اور صناعوں کو پیشگی سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے جو اگر نہ ہو تو وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔
سند میں حضرت وکیع بن جراح کا نام آیا۔
اور ان سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔
کوفہ کے باشندے ہیں۔
بقول بعض ان کی اصل نیشاپور کے قریہ سے ہے۔
انہوں نے ہشام بن عروہ اور اوزاعی اور ثوری وغیرہ اساتذہ حدیث سے حدیث کی سماعت کی ہے۔
ان کے تلامذہ میں اکابر حضرات مثلاً عبداللہ بن مبارک، امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی نظر آتے یں۔
بغداد میں رونق افروز ہو کر درس حدیث کا حلقہ قائم فرمایا۔
فن حدیث میں ان کا قول قابل اعتماد تسلیم کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ صحابی ہیں۔
حدیبہ اور خیبر میں اور اس کے بعد تمام غزوات میں شریک ہوئے۔
اور ہمیشہ مدینہ میں قیام فرمایا۔
یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا حادثہ سامنے آگیا۔
اس کے بعد آپ کوفہ تشریف لے گئے۔
87ھ میں کوفہ میں ہی انتقال فرمایا۔
کوفہ میں انتقال کرنے والے یہ سب سے آخری صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
ان سے امام شعبی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
امام شعبی عامر بن شرحبیل کوفی مشہور ذی علم اکابر میں سے ہیں۔
حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں پیدا ہوئے۔
بہت سے صحابہ سے روایت کرتے ہیں۔
انہوں نے پانچ سو صحابہ کرام ؓ کو دیکھا۔
حفظ حدیث کا یہ ملکہ خداداد تھا کہ کبھی کوئی حرف کاغذ پر نوٹ نہیں فرمایا۔
جو بھی حدیث سنی اس کو اپنے حافظہ میں محفوظ کر لیا۔
امام زہری کہا کرتے تھے کہ دور حاضر ہ میں حقیقی علماءتو چار ہی دیکھے گئے ہیں۔
یعنی ابن مسیب مدینہ میں، شعبی کوفہ میں، حسن بصرہ میں اور محکول شام میں۔
بعمر82 سال104ھ میں انتقال فرمایا۔
رحمه اللہ رحمة واسعة۔
آمین
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2242]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2242
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس امر پر اجماع امت ہے کہ بیع سلم میں جو چیزیں ماپ اور وزن کے قابل ہیں ان کا ماپ اور وزن مقرر ہونا ضروری ہے اور جو چیزیں محض عدد سے تعلق رکھتی ہیں ان کی تعداد کا مقرر ہونا ضروری ہے، نیز اوصاف کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہوسکے اور آئندہ کسی قسم کا جھگڑا پیدا نہ ہو۔
(فتح الباري: 543/4)
(2)
دراصل کاریگروں اور کاشت کاروں کو پیشگی سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ایسا کام جائز نہ ہوتو وہ کاروبار نہیں کرسکیں گے۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس قسم کا لین دین مدینہ طیبہ میں بہت عام تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلاح فرما کر اسے جاری رکھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2242]