صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب إذا وهب شيئا لوكيل أو شفيع قوم جاز:
باب: اگر کوئی چیز کسی قوم کے وکیل یا سفارشی کو ہبہ کی جائے تو درست ہے۔
حدیث نمبر: Q2307
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَفْدِ هَوَازِنَ حِينَ سَأَلُوهُ الْمَغَانِمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَصِيبِي لَكُمْ» .
کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ہوازن کے وفد سے فرمایا، جب انہوں نے غنیمت کا مال واپس کرنے کے لیے کہا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میرا حصہ تم لے سکتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوكالة/حدیث: Q2307]
حدیث نمبر: 2307
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: وَزَعَمَ عُرْوَةُ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ بِذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعُوا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ، فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ عروہ یقین کے ساتھ بیان کرتے تھے اور انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (غزوہ حنین کے بعد) جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا تو انہوں نے درخواست کی کہ ان کے مال و دولت اور ان کے قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ سچی بات مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے۔ تمہیں اپنے دو مطالبوں میں سے صرف کسی ایک کو اختیار کرنا ہو گا، یا قیدی واپس لے لو، یا مال لے لو، میں اس پر غور کرنے کی وفد کو مہلت بھی دیتا ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی کے بعد ان کا (جعرانہ میں) تقریباً دس رات تک انتظار کیا۔ پھر جب قبیلہ ہوازن کے وکیلوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ آپ ان کے مطالبہ کا صرف ایک ہی حصہ تسلیم کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم صرف اپنے ان لوگوں کو واپس لینا چاہتے ہیں جو آپ کی قید میں ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب فرمایا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا، امابعد! یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے مسلمان ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں۔ اس لیے میں نے مناسب جانا کہ ان کے قیدیوں کو واپس کر دوں۔ اب جو شخص اپنی خوشی سے ایسا کرنا چاہے تو اسے کر گزرے۔ اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہم اس کے اس حصہ کو (قیمت کی شکل میں) اس وقت واپس کر دیں جب اللہ تعالیٰ (آج کے بعد) سب سے پہلا مال غنیمت کہیں سے دلا دے تو اسے بھی کر گزرنا چاہئے۔ یہ سن کر سب لوگ بولے پڑے کہ ہم بخوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ان کے قیدیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ہم اس کی تمیز نہیں کر سکتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ہے۔ اس لیے تم سب (اپنے اپنے ڈیروں میں) واپس جاؤ اور وہاں سے تمہارے وکیل تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں۔ چنانچہ سب لوگ واپس چلے گئے۔ اور ان کے سرداروں نے (جو ان کے نمائندے تھے) اس صورت حال پر بات کی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ سب نے بخوشی دل سے اجازت دے دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوكالة/حدیث: 2307]
حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہ اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ جب وفد ہوازن مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے قیدی اور اموال انہیں واپس کر دیے جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ان سے فرمایا: ”سچ بات کہنا مجھے پسند ہے۔ تم دو باتوں میں سے ایک کا انتخاب کر لو: قیدی واپس لے لو یا اپنے مال کو اختیار کر لو، میں نے ان کے بارے میں خاصا توقف کیا تھا۔“ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے لوٹے تو دس راتوں سے زیادہ ان کا انتظار کیا۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدی واپس لینے کو اختیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان تعریف بیان کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد! تمہارے بھائی تائب ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دیے جائیں، تم میں سے جو شخص خوش دلی سے اس کو پسند کرے تو قیدی واپس کر دے اور جو کوئی یہ پسند کرتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے، تاآنکہ جو اول مالِ غنیمت آئے ہم اس میں سے اسے معاوضہ دیں تو وہ بھی قیدی واپس کر دے۔“ چنانچہ سب مسلمانوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر خوشی سے ان کو قیدی واپس کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں معلوم نہیں ہو رہا کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی، واپس چلے جاؤ، تمہارے فیصلے سے تمہارے سردار ہمیں آگاہ کریں۔“ وہ سب لوگ واپس چلے گئے، ان کے سرداروں نے ان سے گفتگو کی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو آگاہ کیا کہ وہ خوش ہیں اور انہوں نے قیدی واپس کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوكالة/حدیث: 2307]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥مروان بن الحكم القرشي، أبو الحكم، أبو عبد الملك، أبو القاسم مروان بن الحكم القرشي ← المسور بن مخرمة القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← مروان بن الحكم القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥سعيد بن عفير الأنصاري، أبو عثمان سعيد بن عفير الأنصاري ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2307 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2307
حدیث حاشیہ:
غزوہ حنین فتح مکہ کے بعد8ھ میں واقع ہوا۔
قرآن مجید میں اس کا ان لفظوں میں ذکر ہے۔
﴿لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ (25)
ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ﴾ (التوبة: 25-26)
یعنی حنین کے دن بھی ہم نے تمہاری مدد کی، جب تمہاری کثرت نے تم کو گھمنڈ میں ڈال دیا تھا۔
تمہارا گھمنڈ تمہارے کچھ کام نہ آیا۔
اور زمین کشادہ ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی۔
اور تم منہ پھیر کر بھاگنے لگے۔
مگر اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی اور ایمان والوں پر بھی، اور ایسا لشکر نازل کیا جسے تم نہیں دیکھ رہے تھے اور کافروں کو اللہ نے عذاب کیا اور کافروں کا یہی بدلہ مناسب ہے۔
ہوا یہ تھا کہ فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کو یہ خیال ہوگیا تھا کہ عرب میں ہر طرف اسلامی پرچم لہرا رہا ہے اب کون ہے، جو ہمارے مقابلے پر آسکے، ان کا یہ غرور اللہ کو ناپسند آیا۔
ادھر حنین کے بہادر لوگ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے مقابلہ پر آگئے۔
اور میدان جنگ میں انہوں نے بے تحاشا تیر برسانے شروع کئے تو مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بڑی تعداد میں راہ فرار اختیار کرنے لگے۔
حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ ارشاد ہوا أنا النبيُ لا کَذب أنا ابنُ عبدِالمطلبِ۔
میں اللہ کا سچا نبی ہوں جس میں مطلق جھوٹ نہیں ہے۔
اور میں عبدالمطلب جیسے نامور بہادر قریش کا بیٹا ہوا۔
پس میدان چھوڑنا میرا کام نہیں ہے۔
ادھر بھاگنے والے صحابہ کو جو آواز دی گئی تو وہ ہوش میں آئے۔
اور اس طرح جوش و خروش کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہونے کو واپس لوٹے کہ میدان جنگ کا نقشہ پلٹ گیا اور مسلمان بڑی شان کے ساتھ کامیاب ہوئے اور ساتھ میں کافی تعداد میں لونڈی، غلام اور مال حاصل کرکے لائے۔
بعد میں لڑنے والوں میں سے قبیلہ ہوازن نے اسلام قبول کر لیا اور یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنے اموال اور لونڈی غلام حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔
اور طائف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں شرف باریابی حاصل کیا۔
آپ نے فرمایا کہ ہر دو مطالبات میں سے ایک پر غور کیا جاسکتا ہے یا تو اپنے آدمی واپس لے لویا اپنے اموال حاصل کرلو۔
آپ نے ان کو جواب کے لیے مہلت دی۔
اور آپ دس روز تک جعرانہ میں ان کا انتظار کرتے رہے یہی جعرانہ نامی مقام ہے جہاں سے آپ اسی اثناءمیں احرام باندھ کر عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے تھے۔
جعرانہ حد حرم سے باہر ہے۔
اس دفعہ کے حج 1389ھ میں اس حدیث پر پہنچا تو خیال ہوا کہ ایک دفعہ جعرانہ جاکر دیکھنا چاہئے۔
چنانچہ جانا ہوا۔
اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ شریف واپسی ہوئی اور عمرہ کرکے احرام کھول دیا۔
یہاں اس مقام پر اب عظیم الشان مسجد بنی ہوئی ہے اور پانی وغیرہ کا معقول انتظام ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مطالبہ کے سلسلہ میں اپنے حصہ کے قیدی واپس کر دئیے۔
اور دوسرے جملہ مسلمانوں سے بھی واپس کرا دئیے۔
اسلام کی یہی شان ہے کہ وہ ہر حال میں انسان پروری کو مقدم رکھتا ہے۔
آپ نے یہ معاملہ قوم کے وکلاءکے ذریعہ طے کرایا۔
اسی سے مجتہد مطلق حضرت امام بخاری ؒ کا مقصد باب ثابت ہوا اور یہ بھی کہ اجتماعی قومی معاملات کو حل کرنے کے لیے قوم کے نمائندگان کا ہونا ضروری ہے۔
آج کل کی اصطلاح میں ان کو چودھری پنچ ممبر کہا جاتاہے۔
قدیم زمانے سے دنیا کی ہر قوم میں ایسے اجتماعی نظام چلے آرہے ہیں کہ ان کے چودھری پنچ جو بھی فیصلہ کردیں وہی قومی فیصلہ مانا جاتا ہے۔
اسلام ایسی اجتماعی تنظیموں کا حامی ہے بشرطیکہ معاملات حق و انصاف کے ساتھ حل کئے جائیں۔
غزوہ حنین فتح مکہ کے بعد8ھ میں واقع ہوا۔
قرآن مجید میں اس کا ان لفظوں میں ذکر ہے۔
﴿لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ (25)
ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ﴾ (التوبة: 25-26)
یعنی حنین کے دن بھی ہم نے تمہاری مدد کی، جب تمہاری کثرت نے تم کو گھمنڈ میں ڈال دیا تھا۔
تمہارا گھمنڈ تمہارے کچھ کام نہ آیا۔
اور زمین کشادہ ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی۔
اور تم منہ پھیر کر بھاگنے لگے۔
مگر اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی اور ایمان والوں پر بھی، اور ایسا لشکر نازل کیا جسے تم نہیں دیکھ رہے تھے اور کافروں کو اللہ نے عذاب کیا اور کافروں کا یہی بدلہ مناسب ہے۔
ہوا یہ تھا کہ فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کو یہ خیال ہوگیا تھا کہ عرب میں ہر طرف اسلامی پرچم لہرا رہا ہے اب کون ہے، جو ہمارے مقابلے پر آسکے، ان کا یہ غرور اللہ کو ناپسند آیا۔
ادھر حنین کے بہادر لوگ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے مقابلہ پر آگئے۔
اور میدان جنگ میں انہوں نے بے تحاشا تیر برسانے شروع کئے تو مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بڑی تعداد میں راہ فرار اختیار کرنے لگے۔
حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ ارشاد ہوا أنا النبيُ لا کَذب أنا ابنُ عبدِالمطلبِ۔
میں اللہ کا سچا نبی ہوں جس میں مطلق جھوٹ نہیں ہے۔
اور میں عبدالمطلب جیسے نامور بہادر قریش کا بیٹا ہوا۔
پس میدان چھوڑنا میرا کام نہیں ہے۔
ادھر بھاگنے والے صحابہ کو جو آواز دی گئی تو وہ ہوش میں آئے۔
اور اس طرح جوش و خروش کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہونے کو واپس لوٹے کہ میدان جنگ کا نقشہ پلٹ گیا اور مسلمان بڑی شان کے ساتھ کامیاب ہوئے اور ساتھ میں کافی تعداد میں لونڈی، غلام اور مال حاصل کرکے لائے۔
بعد میں لڑنے والوں میں سے قبیلہ ہوازن نے اسلام قبول کر لیا اور یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنے اموال اور لونڈی غلام حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔
اور طائف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں شرف باریابی حاصل کیا۔
آپ نے فرمایا کہ ہر دو مطالبات میں سے ایک پر غور کیا جاسکتا ہے یا تو اپنے آدمی واپس لے لویا اپنے اموال حاصل کرلو۔
آپ نے ان کو جواب کے لیے مہلت دی۔
اور آپ دس روز تک جعرانہ میں ان کا انتظار کرتے رہے یہی جعرانہ نامی مقام ہے جہاں سے آپ اسی اثناءمیں احرام باندھ کر عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے تھے۔
جعرانہ حد حرم سے باہر ہے۔
اس دفعہ کے حج 1389ھ میں اس حدیث پر پہنچا تو خیال ہوا کہ ایک دفعہ جعرانہ جاکر دیکھنا چاہئے۔
چنانچہ جانا ہوا۔
اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ شریف واپسی ہوئی اور عمرہ کرکے احرام کھول دیا۔
یہاں اس مقام پر اب عظیم الشان مسجد بنی ہوئی ہے اور پانی وغیرہ کا معقول انتظام ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مطالبہ کے سلسلہ میں اپنے حصہ کے قیدی واپس کر دئیے۔
اور دوسرے جملہ مسلمانوں سے بھی واپس کرا دئیے۔
اسلام کی یہی شان ہے کہ وہ ہر حال میں انسان پروری کو مقدم رکھتا ہے۔
آپ نے یہ معاملہ قوم کے وکلاءکے ذریعہ طے کرایا۔
اسی سے مجتہد مطلق حضرت امام بخاری ؒ کا مقصد باب ثابت ہوا اور یہ بھی کہ اجتماعی قومی معاملات کو حل کرنے کے لیے قوم کے نمائندگان کا ہونا ضروری ہے۔
آج کل کی اصطلاح میں ان کو چودھری پنچ ممبر کہا جاتاہے۔
قدیم زمانے سے دنیا کی ہر قوم میں ایسے اجتماعی نظام چلے آرہے ہیں کہ ان کے چودھری پنچ جو بھی فیصلہ کردیں وہی قومی فیصلہ مانا جاتا ہے۔
اسلام ایسی اجتماعی تنظیموں کا حامی ہے بشرطیکہ معاملات حق و انصاف کے ساتھ حل کئے جائیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2307]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2307
حدیث حاشیہ:
(1)
قبیلۂ ہوازن کا جو وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا وہ ان کا وکیل بھی تھا اور قیدیوں کو واپس کرانے میں سفارشی بھی تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سفارش قبول کرتے ہوئے قیدیوں میں سے اپنا حصہ انھیں واپس کردیا اور باقی قیدیوں کے متعلق لوگوں سے بات کی۔
تمام مسلمانوں نے خوش دلی سے قیدی واپس کردیے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ بظاہر یہ ہبہ ان لوگوں کے لیے تھا جو اپنی قوم کی طرف سے وکیل اور سفارشی بن کرآئے تھے مگر در حقیقت یہ ہبہ سب کے لیے تھا جو حاضر تھے ان کے لیے بھی اور جو غائب تھے ان کے لیے بھی۔
(3)
اس سے معلوم ہوا کہ الفاظ مقاصد پر وارد ہوتے ہیں، ظاہر صورتوں پر نہیں، اس بنا پر اگر کوئی غیر کے لیے ہبہ کی سفارش کرے اور سفارشی سے کہا جائے کہ یہ چیز تیرے لیے ہبہ کردی گئی ہے تو سفارشی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ظاہر الفاظ کا اعتبار کرتے ہوئے اپنے لیے ہبہ رکھ لے بلکہ وہ اس کے لیے ہوگا جس کے لیے اس نے سفارش کی تھی۔
(فتح الباري: 610/4)
(4)
اس ھدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی اجتماعی معاملہ درپیش ہوتو انفرادی طور پر بات چیت کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر قوم کے نمائندے طلب کرنا اور ان سے گفتگو کرنا مناسب ہے۔
کوئی قومی مسئلہ ہوتو قومی نمائندوں کے ذریعے سے اسے حل کیا جائے۔
وہ نمائندے قومی وکیل ہوں گے اور کوئی قومی امانت بھی ان کے ذریعے سے قوم کے حوالے کی جائے گی۔
بہر حال اجتماعیت کے بہت فوائد ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے متعدد مواقع پر بہت اہمیت دی ہے۔
(1)
قبیلۂ ہوازن کا جو وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا وہ ان کا وکیل بھی تھا اور قیدیوں کو واپس کرانے میں سفارشی بھی تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سفارش قبول کرتے ہوئے قیدیوں میں سے اپنا حصہ انھیں واپس کردیا اور باقی قیدیوں کے متعلق لوگوں سے بات کی۔
تمام مسلمانوں نے خوش دلی سے قیدی واپس کردیے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ بظاہر یہ ہبہ ان لوگوں کے لیے تھا جو اپنی قوم کی طرف سے وکیل اور سفارشی بن کرآئے تھے مگر در حقیقت یہ ہبہ سب کے لیے تھا جو حاضر تھے ان کے لیے بھی اور جو غائب تھے ان کے لیے بھی۔
(3)
اس سے معلوم ہوا کہ الفاظ مقاصد پر وارد ہوتے ہیں، ظاہر صورتوں پر نہیں، اس بنا پر اگر کوئی غیر کے لیے ہبہ کی سفارش کرے اور سفارشی سے کہا جائے کہ یہ چیز تیرے لیے ہبہ کردی گئی ہے تو سفارشی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ظاہر الفاظ کا اعتبار کرتے ہوئے اپنے لیے ہبہ رکھ لے بلکہ وہ اس کے لیے ہوگا جس کے لیے اس نے سفارش کی تھی۔
(فتح الباري: 610/4)
(4)
اس ھدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی اجتماعی معاملہ درپیش ہوتو انفرادی طور پر بات چیت کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر قوم کے نمائندے طلب کرنا اور ان سے گفتگو کرنا مناسب ہے۔
کوئی قومی مسئلہ ہوتو قومی نمائندوں کے ذریعے سے اسے حل کیا جائے۔
وہ نمائندے قومی وکیل ہوں گے اور کوئی قومی امانت بھی ان کے ذریعے سے قوم کے حوالے کی جائے گی۔
بہر حال اجتماعیت کے بہت فوائد ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے متعدد مواقع پر بہت اہمیت دی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2307]
Sahih Bukhari Hadith 2307 in Urdu
مروان بن الحكم القرشي ← المسور بن مخرمة القرشي