🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب الصلح مع المشركين:
باب: مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2702
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ان دنوں صلح تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2702]
حضرت سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف گئے، خیبر کے یہودیوں سے ان دنوں مسلمانوں کی صلح تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن أبي حثمة الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو عبد الرحمنصحابي صغير
👤←👥بشير بن يسار الحارثي، أبو كيسان
Newبشير بن يسار الحارثي ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← بشير بن يسار الحارثي
ثقة ثبت
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2702 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2702
حدیث حاشیہ:
اسی سے کافروں کے ساتھ صلح کرنا ثابت ہوا۔
صلح کے متعلق اسلام نے خاص ہدایات اسی لیے دی ہیں کہ اسلام سراسر امن اور صلح کا علمبردار ہے۔
اسلام نے جنگ و جدال کو کبھی پسند نہیں کیا، قرآن مجید میں صاف ہدایت ہے۔
﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾ (الأنفال: 61)
اگر دشمن صلح کرنا چاہے تو آپ ضرور صلح کے لیے جھک جائیے۔
قرآن مجید میں جہاں بھی جنگی احکامات ہیں وہ صرف مدافعت کے لیے ہیں۔
جارحانہ ہدایت کہیں بھی نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2702]

Sahih Bukhari Hadith 2702 in Urdu