🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب فضل الخدمة فى الغزو:
باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2888
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَحِبْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَكَانَ يَخْدُمُنِي وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْ أَنَسٍ، قَالَ جَرِيرٌ: إِنِّي رَأَيْتُ الْأَنْصَارَ يَصْنَعُونَ شَيْئًا لَا، أَجِدُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا أَكْرَمْتُهُ".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن عبید نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو وہ میری خدمت کرتے تھے حالانکہ عمر میں وہ مجھ سے بڑے تھے، جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہر وقت انصار کو ایک ایسا کام کرتے دیکھا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت) کہ جب ان میں سے کوئی مجھے ملتا ہے تو میں اس کی تعظیم و اکرام کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2888]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جرير بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله، أبو عمروصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← جرير بن عبد الله البجلي
صحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد
Newيونس بن عبيد العبدي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثبت فاضل ورع
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← يونس بن عبيد العبدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن عرعرة القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله، أبو عمرو
Newمحمد بن عرعرة القرشي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2888 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2888
حدیث حاشیہ:
وہ بات یہ تھی کہ انصاری جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت رکھتے اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعظیم کرتے تھے۔
معلوم ہوا جوکوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھے اسکی خدمت کرنا عین سعادت ہے۔
بہ ظاہر اس حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے مشکل ہے‘ عینی نے کہا مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ یہ صحبت سفر میں ہوئی اور سفر عام ہے جو جہاد کے سفر کو بھی شامل ہے پس باب سے مطابقت ہو گئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2888]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2888
حدیث حاشیہ:

وہ بات یہ تھی کہ انصار ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کیاکرتے اور آپ کی ہرطرح سے خدمت بجالاتے تھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ا گر کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے تواس کی خدمت کرنا عین سعادت ہے۔
صحیح مسلم میں اتنا اضافہ ہے کہ حضرت انس ؓ کی حضرت جریر ؓ کے ساتھ ہم نشینی سفر میں ہوئی اور سفر عام ہے، خواہ جہاد کا ہو یا غیر جہاد کا۔
اس سے امام بخاری ؓ نے دوران جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کو ثابت کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2888]