🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء فى قول الله تعالى: {وهو الذى يبدأ الخلق ثم يعيده} :
باب: اور اللہ پاک نے فرمایا ”اللہ ہی ہے جس نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا، اور وہی پھر دوبارہ (موت کے بعد) زندہ کرے گا اور یہ (دوبارہ زندہ کرنا) تو اس پر اور بھی آسان ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3192
وَرَوَى عِيسَى، عَنْ رَقَبَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتَّى دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ، وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ، حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ".
اور عیسیٰ نے رقبہ سے روایت کیا، انہوں نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی۔ یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے (وہاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا) جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد الله
Newطارق بن شهاب البجلي ← عمر بن الخطاب العدوي
له رؤية
👤←👥قيس بن مسلم الجدلي، أبو عمرو
Newقيس بن مسلم الجدلي ← طارق بن شهاب البجلي
ثقة
👤←👥رقبة بن مصقلة العبدي، أبو عبد الله
Newرقبة بن مصقلة العبدي ← قيس بن مسلم الجدلي
ثقة مأمون
👤←👥عيسى بن موسى التيمي، أبو أحمد
Newعيسى بن موسى التيمي ← رقبة بن مصقلة العبدي
وربما دلس مكثر من التحديث عن المتروكين، صدوق ربما أخطأ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3192 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3192
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا سب چیزیں حادث اور مخلوق ہیں۔
عرش، فرش، آسمان، زمین سب میں اتنی بات ہے کہ عرش اس کا اور سب چیزوں سے پہلے وجود رکھتا تھا۔
مگر حادث اور مخلوق وہ بھی ہے۔
غرض اس حدیث سے حکماء کا مذہب باطل ہوا جو اللہ کے سوا مادے اور ادراک یعنی عقل اور آسمان اور زمین سب چیزوں کو قدیم مانتے ہیں اور ان صوفیہ کا بھی رد ہوا جو روح انسانی کو مخلوق نہیں کہتے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ نے سب سے پہلے پانی کو پیدا کیا، پھر زمین و آسمان وغیرہ وجود میں آئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3192]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3192
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تخلیق کی ابتدا معاش اور معاذ تک تمام خبریں بتا دیں۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ان سب اخبار کو ایک ہی مجلس میں بیان فرمادیا۔
صحیح مسلم میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی اور ایک مقام پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا حتی کہ نمازکا وقت ہو گیا۔
آپ منبر سے نیچے تشریف لائے نماز ظہر پڑھی پھر منبر تشریف لائے اور خطبہ دیا پھر نماز عصر پڑھی حتی کہ سورج غروب ہو گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطاب میں جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا سب کا سب بیان فرمایا:
ہم میں سے زیادہ عالم وہ شخص تھا جو ان باتوں کو زیادہ یاد کرنے والا تھا۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7267(2892)
اتنے قلیل دقت میں قیامت تک ہونے والی ہر چیز کا بیان کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے اگرچہ بظاہر عقل کے خلاف ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3192]