صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب علامات النبوة فى الإسلام:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3623
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مَشْيُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ، فَقُلْتُ: لَهَا لِمَ تَبْكِينَ ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ فَسَأَلْتُهَا عَمَّا، قَالَ:
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے عامر نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کی چال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے بڑی مشابہت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی آؤ مرحبا! اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا، پھر ان کے کان میں آپ نے چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، میں نے ان سے کہا کہ آپ روتی کیوں ہو؟ پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ ہنس دیں۔ میں نے ان سے کہا آج غم کے فوراً بعد ہی خوشی کی جو کیفیت میں نے آپ کے چہرے پر دیکھی وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں میں آپ کے راز کو کسی پر نہیں کھول سکتی۔ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پوچھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3623]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی تشریف لائیں گویا ان کی چال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چال جیسی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا: ”میری بیٹی کا آنا مبارک ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا، اس کے بعد ان سے پوچھا: ”تم کیوں روتی ہو؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کوئی راز کی بات کہی تو وہ ہنس پڑیں۔ میں نے کہا: میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا جس میں خوشی، غم کے زیادہ قریب ہو، چنانچہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشا نہیں کر سکتی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے ان سے پوچھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3623]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 3623 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق