صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب علامات النبوة فى الإسلام:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3625
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ: فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ.
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ مرض میں اپنی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور چپکے سے کوئی بات ان سے فرمائی تو وہ رونے لگیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور چپکے سے پھر کوئی بات فرمائی تو وہ ہنسیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق پوچھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3625]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنی اس بیماری میں بلایا جس میں آپ کی وفات تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کوئی راز دارانہ گفتگو کی تو وہ رونے لگیں، پھر انہیں بلا کر خفیہ کلام فرمایا تو وہ ہنس پڑیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس کا سبب پوچھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3625]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 3625 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← فاطمة بنت رسول الله