صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3642
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَيَّ يُحَدِّثُونَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي لَهُ بِهِ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ وَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ وَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ، قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَهُ شَبِيبٌ مِنْ عُرْوَةَ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: شَبِيبٌ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَيَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا ہم سے شبیب بن غرقدہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے سنا تھا، وہ لوگ عروہ سے نقل کرتے تھے (جو ابوالجعد کے بیٹے اور صحابی تھے) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دیا کہ وہ اس کی ایک بکری خرید کر لے آئیں۔ انہوں نے اس دینار سے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ کر دینار بھی واپس کر دیا۔ اور بکری بھی پیش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۔ پھر تو ان کا یہ حال ہوا کہ اگر مٹی بھی خریدتے تو اس میں انہیں نفع ہو جاتا۔ سفیان نے کہا کہ حسن بن عمارہ نے ہمیں یہ حدیث پہنچائی تھی شبیب بن غرقدہ سے۔ حسن بن عمارہ نے کہا کہ شبیب نے یہ حدیث خود عروہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی۔ چنانچہ میں شبیب کی خدمت میں گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ حدیث خود عروہ سے نہیں سنی تھی۔ البتہ میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو ان کے حوالے سے بیان کرتے سنا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3642]
حضرت شبیب بن غرقدہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے قبیلے کے لوگوں سے سنا، وہ حضرت عروہ (بن جعد رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دیا کہ وہ اس کے عوض ایک بکری خرید کر لائیں۔ انہوں نے اس دینار سے دو بکریاں خریدیں۔ پھر ایک بکری کو ایک دینار کے عوض فروخت کر کے دینار بھی واپس کر دیا اور بکری بھی پیش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی، چنانچہ وہ اگر مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی انہیں نفع ہو جاتا۔ حضرت سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حسن بن عمارہ نے ہمیں یہ حدیث شبیب بن غرقدہ کے حوالے سے پہنچائی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ شبیب نے یہ حدیث خود حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی، چنانچہ میں شبیب کی خدمت میں گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ حدیث خود عروہ سے نہیں سنی بلکہ میں نے اپنے قبیلے کے لوگوں سے سنی تھی جو ان کے حوالے سے اسے بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3642]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 3642 in Urdu
عروة بن الجعد البارقي ← اسم مبهم