🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب مناقب على بن أبى طالب القرشي الهاشمي أبى الحسن رضي الله عنه:
باب: ابوالحسن علی بن ابی طالب القرشی الہاشمی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3707
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" اقْضُوا كَمَا كُنْتُمْ تَقْضُونَ فَإِنِّي أَكْرَهُ الِاخْتِلَافَ حَتَّى يَكُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ أَوْ أَمُوتَ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي". فَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَرَى أَنَّ عَامَّةَ مَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ الْكَذِبُ.
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں ابن سیرین نے، انہیں عبیدہ نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے عراق والوں سے کہا کہ جس طرح تم پہلے فیصلہ کیا کرتے تھے اب بھی کیا کرو کیونکہ میں اختلاف کو برا جانتا ہوں۔ اس وقت تک کہ سب لوگ جمع ہو جائیں یا میں بھی اپنے ساتھیوں (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی طرح دنیا سے چلا جاؤں، ابن سیرین رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ عام لوگ (روافض) جو علی رضی اللہ عنہ سے روایات (شیخین کی مخالفت میں) بیان کرتے ہیں وہ قطعاً جھوٹی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3707]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبيدة بن عمرو السلمانى، أبو مسلم، أبو عمرو
Newعبيدة بن عمرو السلمانى ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← عبيدة بن عمرو السلمانى
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبتت حجة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أيوب السختياني
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥علي بن الجعد الجوهري، أبو الحسن
Newعلي بن الجعد الجوهري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت رمي بالتشيع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3707 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3707
حدیث حاشیہ:
لفظ رافضی رفض سے مشتق ہے، محققین کہتے ہیں کہ ان شیعوں کانام رافضی اس لیے ہوا کہ لأنھم رفضوا زید بن علي بن الحسین بن علي بن أبي طالب بعدم تبریئه من أبي بکر وعمر۔
واقعہ یہ ہے ہواتھاکہ حضرت زید بن علی بن حسین ؓ کو فہ تشریف لائے اور لوگوں کو تبلیغ کی، بہت سے لوگوں نے ان سے بیعت کی مگر ایک جماعت نے کہا کہ جب تک آپ ابوبکر وعمر کو برانہ کہیں گے ہم آپ سے بیعت نہ کریں گے، حضرت زید نے ان کی اس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور وہ امر حق پر قائم رہے۔
اس وقت اس جماعت نے یہ نعرہ بلند کیا نحن نرفضك ہم تم کو چھوڑتے ہیں۔
اس وقت سے یہ گروہ رافضی کے نام سے موسوم ہوا۔
حضرت پیر جیلا نی ؒ نے اس گروہ کی سخت مذمت کی ہے اس گروہ کے مقابلہ پر خارجی ہیں جنہوں نے حضرت علی ؓ پر خروج کیا اور منبر پر ان کی برائی شروع کی، ہردوفریق گمراہ ہیں، اعتدال اہل سنت کا ہے جو سب صحابہ ؓ کی عزت کرتے ہیں اور کسی کے خلاف لب کشائی نہیں کرتے ان کی لغزشوں کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں۔
روایت میں مذکور بزرگ عبیدہ ؒ عراق کے قاضی تھے، حضرت عمر ؓ کا قول یہ تھا کہ ام ولد کی بیع درست نہیں ہے، حضرت علی ؓ کا خیال تھا کہ ام ولد کی بیع درست ہے، عبیدہ نے یہ عرض کیا کہ ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما کے زمانے میں توہم ام ولد کی بیع کی ناجوازی کا فتویٰ دیتے رہے ہیں۔
اب آپ کا کیا حکم ہے؟ اس وقت حضرت علی ؓ نے یہ فرمایا کہ اب بھی وہی فیصلہ کرو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3707]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3707
حدیث حاشیہ:

اس حدیث کا پس منظر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت علی ؓ ام ولد کی خریدوفروخت سے منع کرتے تھے جب انھوں نے دیکھا کہ لوگ اس کی خریدوفروخت کرتے ہیں توآپ نے اسے قول سے رجوع کرلیا کہ میری رائے سے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوتاہے جسے میں پسند نہیں کرتااور شیخین کے فیصلوں پر عمل کرنے سے اجتماعیت اور اتفاق قائم رہتا ہے،لہذا اپنی رائے کو چھوڑتا ہوں تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔

حضرت ابن سیرین ؒ کا مطلب یہ ہے کہ شیعہ حضرات حضرت علی ؓ کے جو اقوال شیخین کی مخالفت میں بیان کرتے ہیں،ان کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ وہ سب جھوٹے اور خود ساختہ ہیں۔
(فتح الباري: 94/7)

اس حدیث میں حضرت علی ؓ کی فضیلت ہے کہ انھوں نے اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی رائے کو ترکر کردیا۔

حضرت علی کو ابن ملجم ملعون نے رمضان 40ھ مطابق جنوری 661ء میں شہید کردیا۔
إناللہ وإناإلیه راجعون۔

اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائبات میں سے ہے کہ خلافت کی ترتیب اس طرح واقع ہوئی کہ جو شخصیت نسب کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھی اسے بعد میں خلافت ملی جوشخصیت ابعد تھی اسے خلافت پہلے ملی۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3707]