🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب مناقب جعفر بن أبى طالب:
باب: جعفر بن ابی طالب ہاشمی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3709
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى ابْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، انہیں شعبی نے خبر دی کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جعفر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سلام کرتے تو یوں کہا کرتے «السلام عليك يا ابن ذي الجناحين‏.‏» اے دو پروں والے بزرگ کے صاحبزادے تم پر سلام ہو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں جو «جناحين‏.‏» کا لفظ ہے اس سے مراد دو گوشے (کونے) ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3709]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة متقن
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3709 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3709
حدیث حاشیہ:
ان کے والد حضرت جعفر بن ابی طالب جنگ موتی میں شہید ہوئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کو جنت میں دیکھا ان کے جسم پر دوبازو لگے ہوئے ہیں۔
وہ فرشتوں کے ساتھ اڑتے پھرتے ہیں۔
اسی لیے ان کو جعفر طیار کہاگیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3709]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3709
حدیث حاشیہ:
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تجھے مبارک ہو! میں نے اسے فرشتوں کے ہمراہ آسمان میں اڑتے ہوئے دیکھا ہے۔
اس روایت کو طبرانی نے حسن سند سے بیان کیا ہے۔
(مجمع الزوائد 273/9۔
رقم: 15498)
امام ترمذی ؒنے بھی اسے بیان کیا ہے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3763)
لیکن اس کی سند میں کچھ ضعف ہے لیکن دوسرے شواہد کی بناپر اس کے ضعف کی تلافی ہوسکتی ہے۔
(فتح الباري: 98/7)
دراصل حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ جنگ موتہ میں بڑی بے جگری سے لڑے تھے کہ ان کےبازو کٹ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے کٹے ہوئے بازؤں کے عوض انھیں ایسے طاقتور دوپردیے ہیں کہ وہ جنت میں فرشتوں کے ہمراہ پرواز کرتے ہیں۔
اسی بنا پر انھیں جعفر طیار کہا جاتا ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3709]