علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب مناقب عبد الله بن مسعود رضي الله عنه:
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3763
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكُثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحٰق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، کہا کہ مجھ سے اسود بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا: انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا (بکثرت) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3763]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3763 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3763
حدیث حاشیہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور ان کی والدہ ماجدہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکثرت آیا جایاکرتے تھے۔
اس لیے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے خیال کیا کہ شاید یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ سے ہیں۔
اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 4384)
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصاحبت اور اس پر دوام ان کی فضیلت اور برتری پر دلالت کرتا ہے۔
(فتح الباري: 131/7)
وھوالمقصود۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور ان کی والدہ ماجدہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکثرت آیا جایاکرتے تھے۔
اس لیے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے خیال کیا کہ شاید یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ سے ہیں۔
اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 4384)
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصاحبت اور اس پر دوام ان کی فضیلت اور برتری پر دلالت کرتا ہے۔
(فتح الباري: 131/7)
وھوالمقصود۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3763]
Sahih Bukhari Hadith 3763 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن قيس الأشعري