صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب ذكر الجن:
باب: جنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3859
وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ سورة الجن آية 1
اور اللہ نے (سورۃ الجن میں) فرمایا «قل أوحي إلى أنه استمع نفر من الجن» ”اے نبی! آپ کہہ دیجئیے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کو کان لگا کر سنا۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: Q3859]
حدیث نمبر: 3859
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بْنُ أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ"؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ أَنَّهُ آذَنَتْ بِهِمْ شَجَرَةٌ.
مجھ سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے معن بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات میں جنوں نے قرآن مجید سنا تھا اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے دی تھی؟ مسروق نے کہا کہ مجھ سے تمہارے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنوں کی خبر ایک ببول کے درخت نے دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3859]
حضرت معن بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے کہا: ”میں نے مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا کہ جس رات جنات نے قرآن مجید سنا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق کس نے بتایا تھا؟“ مسروق رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے تیرے والد، یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک درخت نے جنات کے متعلق اطلاع دی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3859]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3859 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3859
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات کے قرآن سننے کا واقعہ کئی مرتبہ پیش آیا۔
بعض اوقات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ آپ کے ساتھ ساتھ اوربعض اوقات آپ موجود نہ تھے، اس لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ میں جنات کو قرآن سنانے گیا تھا۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک درخت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنات کے متعلق خبر دی تھی۔
وہ درخت کیکر کا تھا۔
(فتح الباري: 217/7)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات کے قرآن سننے کا واقعہ کئی مرتبہ پیش آیا۔
بعض اوقات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ آپ کے ساتھ ساتھ اوربعض اوقات آپ موجود نہ تھے، اس لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ میں جنات کو قرآن سنانے گیا تھا۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک درخت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنات کے متعلق خبر دی تھی۔
وہ درخت کیکر کا تھا۔
(فتح الباري: 217/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3859]
Sahih Bukhari Hadith 3859 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود