صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب إذا لم يتم السجود:
باب: جب کوئی پورا سجدہ نہ کرے (تو اس کی نماز کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟)۔
حدیث نمبر: 389
أَخْبَرَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ،" رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: لَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہمیں صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے واصل کے واسطہ سے، وہ ابووائل شقیق بن سلمہ سے، وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا۔ جب اس نے اپنی نماز پوری کر لی تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی۔ ابووائل راوی نے کہا، میں خیال کرتا ہوں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تو ایسی ہی نماز پر مر جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نہیں مرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 389]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی نماز میں رکوع اور سجدے کو مکمل طور پر ادا نہیں کر رہا تھا۔ جب یہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ راوی ابووائل کہتے ہیں: میں خیال کرتا ہوں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے یہ بھی فرمایا: اگر تمہیں (اسی حالت میں) موت آ گئی تو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہیں مرو گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 389 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:389
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ نماز کے ارکان میں تمامیت کا ضرور خیال رکھا جائے۔
اگر نماز کی حفاظت و تمامیت کے لیے پیشانی نیچے کپڑا اور پاؤں کے لیے جوتوں یا موزوں کی ضرورت ہو تو انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سجدے کی صحت کا مدار اعضاء پر ہے، یعنی پیشانی اور قدم اگر زمین پر ٹھہرے ہوئے ہوں تو سجدہ صحیح ہوگا، اس کے برعکس اگر پیشانی زمین پرلگی ہوئی نہیں یا قدم زمین سے اٹھے ہوئے ہیں تو سجدہ نہیں ہو گا۔
گویا امام بخاری ؒ نے اس باب میں پچھلے ابواب کی وجہ بیان کی ہے۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس باب کے ذکر کو یہاں بے محل قراردیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ باب بظاہر ناسخین اور ناقلین کی غلطی سے درج ہو گیا ہے، کیونکہ مستملی کے نسخے میں اس جگہ یہ باب نہیں ہے اور مستملی ہی تمام ناقلین میں زیادہ حفظ واتقان والے ہیں۔
اس کا اصل مقام صفة الصلاة ہے۔
وایسے أبواب ستر العورة میں اس باب کو لانے کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ اگر نمازی کسی شرط کو ترک کردے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی۔
جیسا کہ کسی رکن کو ترک کرنے سے نماز صحیح نہیں ہوتی۔
(فتح الباري: 642/1)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں کہ فربری کی روایت کے مطابق صحیح بخاری کے کچھ اوراق کتاب سے علیحدہ تھے۔
بعض ناسخین سے غلطی ہوئی کہ انھوں نے ان اوراق کو ایسی جگہوں سے ملحق کردیا جہاں مصنف نے الحاق نہیں کیا تھا۔
پھر فرماتے ہیں کہ یہ باب اور اس سے ملحق باب کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے کہ ناسخین کی غلطی سے دوسری جگہ لگ گئے ہیں، اس لیے کہ یہ مسائل دراصل أبواب صفة الصلاة سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہمارے نزدیک ناسخین کی غلطی سے اوراق کا ردو بدل نہیں ہوا بلکہ امام بخاری ؒ نے قصداً ایسا کیا ہے۔
جیسا کہ ہم نے اس کی توجیہ بیان کی ہے۔
3۔
امام بخاری سے صحیح بخاری کو نوے ہزار علماء نے سنا ہے، لیکن اسے مرتب کرنے والے صرف چار اہل علم ہیں۔
شیخ ابراہیم بن معقل نسفی شیخ حماد بن شاکر نسوی محمد بن یوسف فربری شیخ ابو طلحہ منصور بن طلحہ بزدوی، ہمارے سامنے فربری والا نسخہ ہے۔
اس نسخے کی ان سے بلا واسطہ روایت کرنے والے مستملی اور کشمیہنی ہیں اور بالواسطہ روایت کرنے والے اصیلی اور مروزی ہیں۔
ان سب سے مستملی کے نسخے کو ان کے احفظ ہونے کی بنا پر ترجیح ہے۔
جیسا کہ حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے۔
(فتح الباري: 642/1)
1۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ نماز کے ارکان میں تمامیت کا ضرور خیال رکھا جائے۔
اگر نماز کی حفاظت و تمامیت کے لیے پیشانی نیچے کپڑا اور پاؤں کے لیے جوتوں یا موزوں کی ضرورت ہو تو انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سجدے کی صحت کا مدار اعضاء پر ہے، یعنی پیشانی اور قدم اگر زمین پر ٹھہرے ہوئے ہوں تو سجدہ صحیح ہوگا، اس کے برعکس اگر پیشانی زمین پرلگی ہوئی نہیں یا قدم زمین سے اٹھے ہوئے ہیں تو سجدہ نہیں ہو گا۔
گویا امام بخاری ؒ نے اس باب میں پچھلے ابواب کی وجہ بیان کی ہے۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس باب کے ذکر کو یہاں بے محل قراردیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ باب بظاہر ناسخین اور ناقلین کی غلطی سے درج ہو گیا ہے، کیونکہ مستملی کے نسخے میں اس جگہ یہ باب نہیں ہے اور مستملی ہی تمام ناقلین میں زیادہ حفظ واتقان والے ہیں۔
اس کا اصل مقام صفة الصلاة ہے۔
وایسے أبواب ستر العورة میں اس باب کو لانے کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ اگر نمازی کسی شرط کو ترک کردے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی۔
جیسا کہ کسی رکن کو ترک کرنے سے نماز صحیح نہیں ہوتی۔
(فتح الباري: 642/1)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں کہ فربری کی روایت کے مطابق صحیح بخاری کے کچھ اوراق کتاب سے علیحدہ تھے۔
بعض ناسخین سے غلطی ہوئی کہ انھوں نے ان اوراق کو ایسی جگہوں سے ملحق کردیا جہاں مصنف نے الحاق نہیں کیا تھا۔
پھر فرماتے ہیں کہ یہ باب اور اس سے ملحق باب کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے کہ ناسخین کی غلطی سے دوسری جگہ لگ گئے ہیں، اس لیے کہ یہ مسائل دراصل أبواب صفة الصلاة سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہمارے نزدیک ناسخین کی غلطی سے اوراق کا ردو بدل نہیں ہوا بلکہ امام بخاری ؒ نے قصداً ایسا کیا ہے۔
جیسا کہ ہم نے اس کی توجیہ بیان کی ہے۔
3۔
امام بخاری سے صحیح بخاری کو نوے ہزار علماء نے سنا ہے، لیکن اسے مرتب کرنے والے صرف چار اہل علم ہیں۔
اس نسخے کی ان سے بلا واسطہ روایت کرنے والے مستملی اور کشمیہنی ہیں اور بالواسطہ روایت کرنے والے اصیلی اور مروزی ہیں۔
ان سب سے مستملی کے نسخے کو ان کے احفظ ہونے کی بنا پر ترجیح ہے۔
جیسا کہ حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے۔
(فتح الباري: 642/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 389]
Sahih Bukhari Hadith 389 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي