Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3971
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ:" كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَكَرَ قَتْلَهُ وَقَتْلَ ابْنِهِ، فَقَالَ بِلَالٌ: لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے والد ابراہیم نے ان کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ امیہ بن خلف سے (ہجرت کے بعد) میرا عہد نامہ ہو گیا تھا۔ پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر انہوں نے اس کے اور اس کے بیٹے (علی) کے قتل کا ذکر کیا۔ بلال نے (جب اسے دیکھ لیا تو) کہا کہ اگر آج امیہ بچ نکلا تو میں آخرت میں عذاب سے بچ نہیں سکوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3971]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عوف الزهري، أبو محمدصحابي
👤←👥إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد الله
Newإبراهيم بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الرحمن بن عوف الزهري
له رؤية
👤←👥صالح بن إبراهيم الزهري، أبو عبد الرحمن، أبو عمران
Newصالح بن إبراهيم الزهري ← إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥يوسف بن الماجشون، أبو سلمة
Newيوسف بن الماجشون ← صالح بن إبراهيم الزهري
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن عبد الله الأويسي، أبو القاسم
Newعبد العزيز بن عبد الله الأويسي ← يوسف بن الماجشون
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3971 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3971
حدیث حاشیہ:
(عہد نامہ یہ تھا)
کہ امیہ مکہ میں عبدالرحمن کی جائیداد محفوظ رکھے۔
اس کے عوض عبدالرحمن امیہ کی جائیداد کی مدینہ میں حفاظت کریں گے۔
جنگ بدر میں امیہ کو بچانے کے لیے عبدالرحمن ان کے اوپر گر پڑے تھے مگر مسلمانوں نے تلواروں سے اسے چھلنی بنا دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3971]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3971
حدیث حاشیہ:

حضرت بلال ؓ ملے میں امیہ بن خلف کے غلام تھے۔
جب وہ مسلمان ہوئے تو امیہ انھیں سخت سزا دینا شروع کردی۔
بالآخر حضرت ابو بکر ؓ نے انھیں خرید کر آزاد کردیا۔

مذکورہ حدیث میں حضرت بلال نے اپنے جذبات کا اظہار اسی وجہ سے کیا تھا۔
اس واقعے کی تفصیل حسب ذیل ہے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے امیہ بن خلف سے ایک تحریری معاہدہ کیا تھا کہ وہ مکے میں میری جائیداد کی حفاظت کرے گا۔
اور میں مدینہ طیبہ میں اس کی جائیداد کو محفوظ رکھو ں گا۔
بدر کے جب لوگ سو گئے تو میں پہاڑ کی طرف نکلا تاکہ حسب معاہدہ اس کی حفاظت کروں۔
اچانک حضرت بلال ؓ نے اسے دیکھا لیا۔
وہ دوڑ کر انصار کے پاس گئے اور کہا:
اگر آج امیہ بچ نکلا تو میری کوئی نجات نہیں۔
اس کے بعد انصار کا ایک گروہ ہمارے تعاقب میں ہو لیا۔
جب مجھے خطرہ لا حق ہوا کہ وہ ہمیں پکڑ لیں گے تو میں نے امیہ کے بیٹے کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کے قتل میں مشغول ہو جائیں اور میں امیہ کو لے کر نکل جاؤں لیکن انھوں نے اس کے بیٹے کو قتل کر کے جلدی سے ہمارا پیچھا کیا اور ہم سے آملے۔
امیہ بہت بھاری آدمی تھا جب انھوں نے ہمیں پالیا تو میں نے امیہ کو گٹھنوں کے بل لیٹ جانے کا کہا وہ لیٹ گیا تو میں اسے بچانے کے لیے اس پر جھک گیا لیکن انصار نے میرے پیچھے سے اسے تلواریں مارنا شروع کردیں حتی کہ اسے قتل کردیا۔
میرے پاؤں پر بھی اس کی تلوارسے زخم آیا۔
راوی کہتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ بعد میں ہمیں وہ زخم کا نشان دکھایا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، الوکالة، حدیث: 2301)
چونکہ امیہ کو قتل کرتے وقت حضرت بلال ؓ بھی انصار کے ساتھ تلوار مارنے میں شریک تھے۔
اس لیے حضرت بلال ؓ بھی امیہ کے قاتلوں میں شمار ہوتے ہیں امیہ کا ایک دوسرا کردار آئندہ حدیث میں بیان ہو رہا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3971]