صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب مرجع النبى صلى الله عليه وسلم من الأحزاب ومخرجه إلى بني قريظة ومحاصرته إياهم:
باب: غزوہ احزاب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واپس لوٹنا اور بنو قریظہ پر چڑھائی کرنا اور ان کا محاصرہ کرنا۔
حدیث نمبر: 4118
حَدَّثَنَا مُوسَى , حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِي غَنْمٍ مَوْكِبَ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے اب بھی وہ گردوغبار میں دیکھ رہا ہوں جو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سوار فرشتوں کی وجہ سے قبیلہ بنو غنم کی گلی میں اٹھا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے خلاف چڑھ کر گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4118 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4118
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بنوقریظہ کی عہد شکنی کا علم ہواتوتحقیق کے لیے حضرت سعد بن معاذ ؓ، حضرت سعد بن عبادہ ؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور خوات بن جبیر ؓ کو حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے بھیجا۔
جب یہ لوگ بنوقریظہ کے پاس پہنچے تو انھیں انتہائی خباثت پرآمادہ پایا، انھوں نے غلیظ گالیاں بکنا شروع کردیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی، چنانچہ ان حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشاروں میں بتایا کہ وہ بدعہدی پر تلے ہوئے ہیں۔
اس دوران میں حضرت جبرئیل ؑ تشریف لائے اور فرمایا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان پر کاری ضرب لگانے کے لیے اپنے رفقاء کو ساتھ لے کر بنوقریظہ کا رخ کریں، میں آگے آگے جارہا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے اصحاب تو تھکاوٹ سے چور ہوچکے ہیں۔
“ حضرت جبرئیل ؑ نے کہا:
آپ ان کا رخ کریں، میں ان کے قلعوں میں زلزلہ برپا کردوں گا اور ان کے دلوں میں رعب اور دہشت ڈال دوں گا۔
یہ کہہ کر وہ دوسرے فرشتوں کے ساتھ بنوقریظہ کے طرف روانہ ہوگئے۔
اس وقت فرشتوں کے گھوڑوں سے جو گرد وغبار اٹھ رہا تھا، حضرت انس ؓ نے اس کی منظر کشی کی ہے۔
حضرت جبرئیل ؑ اور دیگر فرشتے انسانی شکل میں تھے۔
حضرت انس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کو ان کی پہچان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے یا علامات وقرائن سے ہوئی تھی۔
(فتح الباري: 510/7)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بنوقریظہ کی عہد شکنی کا علم ہواتوتحقیق کے لیے حضرت سعد بن معاذ ؓ، حضرت سعد بن عبادہ ؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور خوات بن جبیر ؓ کو حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے بھیجا۔
جب یہ لوگ بنوقریظہ کے پاس پہنچے تو انھیں انتہائی خباثت پرآمادہ پایا، انھوں نے غلیظ گالیاں بکنا شروع کردیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی، چنانچہ ان حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشاروں میں بتایا کہ وہ بدعہدی پر تلے ہوئے ہیں۔
اس دوران میں حضرت جبرئیل ؑ تشریف لائے اور فرمایا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان پر کاری ضرب لگانے کے لیے اپنے رفقاء کو ساتھ لے کر بنوقریظہ کا رخ کریں، میں آگے آگے جارہا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے اصحاب تو تھکاوٹ سے چور ہوچکے ہیں۔
“ حضرت جبرئیل ؑ نے کہا:
آپ ان کا رخ کریں، میں ان کے قلعوں میں زلزلہ برپا کردوں گا اور ان کے دلوں میں رعب اور دہشت ڈال دوں گا۔
یہ کہہ کر وہ دوسرے فرشتوں کے ساتھ بنوقریظہ کے طرف روانہ ہوگئے۔
اس وقت فرشتوں کے گھوڑوں سے جو گرد وغبار اٹھ رہا تھا، حضرت انس ؓ نے اس کی منظر کشی کی ہے۔
حضرت جبرئیل ؑ اور دیگر فرشتے انسانی شکل میں تھے۔
حضرت انس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کو ان کی پہچان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے یا علامات وقرائن سے ہوئی تھی۔
(فتح الباري: 510/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4118]
حميد بن هلال العدوي ← أنس بن مالك الأنصاري