🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4292
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى : " مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّهُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، قَالَتْ: لَمْ أَرَهُ صَلَّى صَلَاةً أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ‘ انہی نے کہا کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا اور آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اتنی ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر بھی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4292]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فاختة بنت أبي طالب الهاشمية، أم هانئصحابية
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4292 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4292
حدیث حاشیہ:
ہلکی پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نماز میں آپ نے قرات بہت مختصر کی تھی حدیث سے مقصد یہا ں یہ ثابت کرنا ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ام ہانی ؓ کے گھر میں تھا۔
ام ہانی ؓ کے ہاں آپ نے جو نماز ادا فرمائی اس بابت حافظ ابن قیم ؓ اپنی مشہور کتاب زاد المعاد میں لکھتے ہیں:
ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي بَيْتِهَا، وَكَانَتْ ضُحًى فَظَنَّهَا مَنْ ظَنَّهَا صَلَاةَ الضُّحَى، وَإِنَّمَا هَذِهِ صَلَاةُ الْفَتْحِ، وَكَانَ أُمَرَاءُ الْإِسْلَامِ إِذَا فَتَحُوا حِصْنًا أَوْ بَلَدًا صَلَّوْا عَقِيبَ الْفَتْحِ، هَذِهِ الصَّلَاةَ اقْتِدَاءً بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي الْقِصَّةِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا بِسَبَبِ الْفَتْحِ شُكْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ، فَإِنَّهَا قَالَتْ:
مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا.(زاد المعاد)
یعنی پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام ہانی ؓ کے گھر میں داخل ہوئے اور آپ نے وہاں غسل فرما کر آٹھ رکعات نماز ان کے گھر میں اداکی اور یہ ضحی کا وقت تھا۔
پس جس نے گمان کیا اس نے کہا کہ یہ ضحی کی نماز تھی حالانکہ یہ فتح کے شکرانہ کی نماز تھی۔
بعد میں امراءاسلام کا بھی یہی قاعدہ رہا کہ سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے جب بھی کوئی شہر یا قلعہ فتح کرتے اس نماز کو ادا کرتے تھے اور قصہ میں ایسی دلیل بھی موجود ہے جو اسے نماز شکر انہ ہی ثابت کرتی ہے۔
وہ حضرت ام ہانی ؓ کا یہ قول ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے کبھی پہلے یا پیچھے اس نماز کو پڑھا ہو۔
اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہ فتح کی خوشی میں شکرانہ کی نماز تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4292]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4292
حدیث حاشیہ:

ام ہانی ؓ کانام فاختہ ہے۔
اور یہ حضرت علی ؓ کی حقیقی بہن ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے قریبی رشتے داری تھی، اس لیے آپ نے ان کے گھر میں غسل فرمایا اورنماز چاشت پڑھی۔
(عمدة القاري: 274/12۔
)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل قیام توخیف بنوکنانہ میں تھا جہاں کفار قریش نے کفرپر جمے رہنے کی قسمیں اٹھائی تھیں اور وہ شعب ابی طالب کے سامنے تھا جہاں مسلمانوں کو کافی مدت تک بائیکاٹ کے نتیجے میں محبوس ہوناپڑا۔
حضرت ام ہانی ؓ کے گھر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامستقل قیام نہیں تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف غسل کیا اور اشراق پڑھی، پھرخیف کی طرف واپس چلے گئے جہاں آپ کے لیے خیمہ نصب تھا۔
اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔
(فتح الباري: 25/8۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4292]