🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب حجة الوداع:
باب: حجۃ الوداع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4403
أَلَا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثًا وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ، انْظُرُوا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
‏‏‏‏ خوب سن لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے آپس کے خون اور اموال اسی طرح حرام کئے ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینے میں ہے۔ ہاں بولو! کیا میں نے پہنچا دیا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بولے کہ آپ نے پہنچا دیا۔ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہیو، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ دہرایا۔ افسوس! (آپ نے «ويلكم» فرمایا یا «ويحكم»، راوی کو شک ہے) دیکھو، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے (مسلمان) کی گردن مارنے لگ جاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4403]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4403 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4403
حدیث حاشیہ:
اس طور پر کہ کافروں کو چھوڑ کر آپس ہی میں لڑنے لگو۔
ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ مسلمان کا بلاوجہ شرعی خون کرنا کفر ہے۔
ابن عبا س ؓ کا یہی قول ہے لیکن دوسرے علماء نے تاویل کی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ کافروں کا سا فعل نہ کرو۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ وداع کے بارے میں شک میں رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وداع مراد ہے یا مکہ کا وداع مراد ہے۔
مگر بعد میں معلوم ہوا کہ خود آپ کاوداع مراد تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چند دنوں بعد ہی انتقال فرماگئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطبہ بھی حجۃ الوداع کا خطبہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4403]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4403
حدیث حاشیہ:

حجۃ الوداع کی وجہ تسمیہ کا علم خاص خاص حضرات کوتھا کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال پر ملال ہے۔
عام لوگ حجۃ الوداع کا نام استعمال کرتے تھے لیکن اس کی حقیقی وجہ تسمیہ سے بے خبر تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ شاید میں اس سال کے بعد تمھیں نہ دیکھ سکوں توعام لوگوں نے یہ خیال کیا کہ اس سال کے بعد پھر ایسے اجتماع کے ساتھ آپ حج نہیں کریں گے۔
اس وجہ سے انھوں نے اس حج کو حجۃ الوداع کہا لیکن جب آپ کا چند ماہ بعد انتقال ہوا تو لوگوں کو علم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی الوداعی گفتگو کسی خاص گروہ کے ساتھ مختص نہ تھی بلکہ آپ عوام وخاص سب سے رخصت ہورہے تھے۔

صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شاید میں اس حج کے بعد دوبارہ حج نہ کرسکوں،اس لیے تم مجھ سے مناسک حج سیکھ لو۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3137(1297)
اسی طرح دیگر روایات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرب وفات کا علم ہوتا ہے، اس وجہ سے اسے حجۃ الوداع کہا گیا۔
بہرحال اکثر صحابہ کرام ؓ کو اس بات کا علم نہ ہوسکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہورہے ہیں یا کوئی اور ہم سے الوداع ہورہا ہے۔
جب آپ فوت ہوگئے تو معلوم ہوا کہ آپ نے لوگوں کو وصیت کرکے انھیں الوداع فرمایا اور انھیں وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد کافروں جیسے کام نہ کرنا، پھر اللہ کی گواہی کے ساتھ اس الوداع کومزید تقویت پہنچائی۔
(فتح الباري: 133/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4403]