یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1M. باب: {إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون} :
باب: آیت کی تفسیر ”بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ بہرے، گونگے لوگ ہیں جو ذرا بھی عقل نہیں رکھتے“۔
حدیث نمبر: 4646
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ سورة الأنفال آية 22، قَالَ:" هُمْ نَفَرٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے ورقاء بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ آیت «إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون» ”بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے ذرا کام نہیں لیتے۔“ بنو عبدالدار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4646]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اس آیت ﴿إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ﴾ [سورة الأنفال: 22] ”بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے ذرا کام نہیں لیتے۔“ کے متعلق فرمایا: ”یہ آیت بنو عبدالدار کے کچھ لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4646]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4646 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4646
حدیث حاشیہ:
قریش کے کافروں میں سے بنو عبدالدار قبیلہ کے کچھ لوگ جنگ احد میں کفر کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرے گونگے حیوانات قرار دیا کہ یہ انجام سے غافل ہیں۔
چنانچہ بعد کے حالات نے تصدیق کی کہ فی الواقع ایسے لوگ جانوروں سے بھی بد تر تھے۔
کیونکہ اپنے انجام کا انہوں نے فکر نہیں کیا۔
قریش کے کافروں میں سے بنو عبدالدار قبیلہ کے کچھ لوگ جنگ احد میں کفر کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرے گونگے حیوانات قرار دیا کہ یہ انجام سے غافل ہیں۔
چنانچہ بعد کے حالات نے تصدیق کی کہ فی الواقع ایسے لوگ جانوروں سے بھی بد تر تھے۔
کیونکہ اپنے انجام کا انہوں نے فکر نہیں کیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4646]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4646
حدیث حاشیہ:
1۔
قریش کے کافروں میں سے بنوعبدالدار قبیلے کے کچھ لوگ جنگ اُحد میں کفر کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں گونگے بہرے حیوان قراردیا ہے کہ یہ لوگ اپنے انجام بد سے بے خبر ہیں، چنانچہ بعد کے حالات نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ واقعی یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر تھے۔
2۔
بہرحال انسان اشرف المخلوقات اور مخدوم کائنات ہے، یہ انعامات صرف اطاعت حق کی وجہ سے ہیں، جب انسان حق بات سننے، سمجھنے اور ماننے سے انکار کر دیتا ہے تو یہ سارے انعامات اس سے چھین لیے جاتے ہیں اور وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
قریش کے کافروں میں سے بنوعبدالدار قبیلے کے کچھ لوگ جنگ اُحد میں کفر کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں گونگے بہرے حیوان قراردیا ہے کہ یہ لوگ اپنے انجام بد سے بے خبر ہیں، چنانچہ بعد کے حالات نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ واقعی یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر تھے۔
2۔
بہرحال انسان اشرف المخلوقات اور مخدوم کائنات ہے، یہ انعامات صرف اطاعت حق کی وجہ سے ہیں، جب انسان حق بات سننے، سمجھنے اور ماننے سے انکار کر دیتا ہے تو یہ سارے انعامات اس سے چھین لیے جاتے ہیں اور وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4646]
Sahih Bukhari Hadith 4646 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي