🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب قوله: {والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها فى سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی اور جو لوگ کہ سونا اور چاندی زمین میں گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے! آپ انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4660
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ، فَقُلْتُ" مَا أَنْزَلَكَ بِهَذِهِ الْأَرْضِ؟" قَالَ: كُنَّا بِالشَّأْمِ، فَقَرَأْتُ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ سورة التوبة آية 34"، قَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا هَذِهِ فِينَا، مَا هَذِهِ إِلَّا فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ: قُلْتُ:" إِنَّهَا لَفِينَا وَفِيهِمْ".
ہم سے قتیبہ بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا کہ میں مقام ربذہ میں ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اس جنگل میں آپ نے کیوں قیام کو پسند کیا؟ فرمایا کہ ہم شام میں تھے۔ (مجھ میں اور وہاں کے حاکم معاویہ رضی اللہ عنہ میں اختلاف ہو گیا) میں نے یہ آیت پڑھی «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم‏» کہ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں، آپ انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیں۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں ہے (جب وہ زکوٰۃ دیتے رہیں) بلکہ اہل کتاب کے بارے میں ہے۔ فرمایا کہ میں نے اس پر کہا کہ یہ ہمارے بارے میں بھی ہے اور اہل کتاب کے بارے میں بھی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4660]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥زيد بن وهب الجهني، أبو سليمان
Newزيد بن وهب الجهني ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل
Newالحصين بن عبد الرحمن السلمي ← زيد بن وهب الجهني
ثقة متقن
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4660 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4660
حدیث حاشیہ:
بس اس مسئلہ پر مجھ سے امیر معاویہ ؓ کی تکرار ہو گئی۔
معاویہ نے میری شکایت حضرت عثمان ؓ کو لکھی۔
انہوں نے مجھ کو شام سے یہاں بلالیا۔
میں مدینہ آ گیا وہاں بھی بہت لوگ میرے پاس اکٹھے ہو گئے۔
میں نے حضرت عثمان ؓ سے اس کا ذکر کیا انہوں نے کہا کہ تم چاہو تو یہیں الگ جا کر رہو اس وجہ سے میں یہاں جنگل میں آ کر رہ گیا ہوں۔
حضرت ابو ذر غفاری ؓ بہت بڑے زاہد تارک الدنیا بزرگ تھے۔
اس لئے ان کی دوسرے لوگوں سے کم بنتی تھی۔
آخر وہ خلوت پسند ہو گئے اور اسی خلوت میں ان کی وفات ہو گئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4660]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4660
حدیث حاشیہ:

ایک دوسری روایت میں اس واقعے کی پوری تفصیل ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:
میں شام میں تھا کہ اس آیت کے متعلق میری حضرت امیرمعاویہ ؓ سے کچھ تکرار ہوگئی۔
انھوں نے حضرت عثمان ؓ کو میرے متعلق شکایت کی تو انھوں نے مجھے مدینہ طیبہ بلالیا۔
میں مدینہ طیبہ آگیا تو میرے پاس بہت سے لوگ جمع ہوگئے، گویا انھوں نے مجھے اس سے پہلے کبھی دیکھا نہیں تھا۔
میں نے حضرت عثمان ؓ کو صورت حال سے آگاہ کیا تو انھوں نےفرمایا:
تم چاہوتو یہیں الگ ہوکررہو۔
میں نے یہاں رہنے کو پسند کیا۔
(صحیح البخاري، الزکاة، حدیث: 1406)

حضرت امیر معاویہ ؓ کا موقف تھا کہ یہ آیت مسلمانوں کے متعلق نہیں بشرط یہ کہ وہ زکاۃ ادا کرتے ہوں بلکہ یہ اہل کتاب کے متعلق ہے جبکہ حضرت ابوزر ؓ کہتے تھے کہ یہ آیت عام ہے ہمیں اور اہل کتاب دونوں کو شامل ہے۔
جمہور اہل علم کاموقف ہے کہ اگرمال سے زکاۃ ادا کردی جائے تو وہ خزانہ نہیں رہتا جس پر سخت وعید آئی ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4660]

Sahih Bukhari Hadith 4660 in Urdu