🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب قوله: {هذان خصمان اختصموا فى ربهم} :
باب: آیت کی تفسیر ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4744
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ لِلْخُصُومَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ قَيْسٌ: وَفِيهِمْ نَزَلَتْ: هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19، قَالَ: هُمُ الَّذِينَ بَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلِيٌّ، وَحَمْزَةُ، وَعُبَيْدَةُ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا، انہوں نے ابومجلز سے سن کر کہا کہ یہ خود ان (ابومجلز) کا قول ہے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پہلا شخص ہوں گا۔ جو رحمن کے حضور میں قیامت کے دن اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیے چہار زانو بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا کہ آپ ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم‏» کہ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا بیان کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوت مقابلہ دی تھی۔ یعنی (مسلمانوں کی طرف سے) علی، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نے اور (کفار کی طرف سے) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ نے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4744]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں پہلا شخص ہوں گا جو رحمٰن کے حضور اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیے قیامت کے دن چہار زانو بیٹھوں گا۔ حضرت قیس رحمہ اللہ نے کہا: آپ ہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق جھگڑا کیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوتِ مقابلہ دی تھی، یعنی حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہم ایک طرف، اور شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ دوسری طرف تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4744]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥قيس بن عباد القيسي، أبو عبد الله
Newقيس بن عباد القيسي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥لاحق بن حميد السدوسي، أبو مجلز
Newلاحق بن حميد السدوسي ← قيس بن عباد القيسي
ثقة
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← لاحق بن حميد السدوسي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد
Newالحجاج بن المنهال الأنماطي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4744 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4744
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں میدان ِبدر کی مبارزت کا اجمالی سا ذکر ہوا ہے جبکہ ایک دوسری حدیث میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
بدر کے دن جب دونوں لشکر مقابلے میں آگئے تو عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عبتہ کو لے کر میدان میں نکلا اور نعرہ لگایا:
مقابلے کے لیے کون آتا ہے؟ مسلمانوں کے لشکر سے تین انصاری نوجوان مقابلے کے لیے نکلے تو عتبہ نے کہا:
تم کون لوگ ہو اور کس قوم سے تمہارا تعلق ہے؟ انھوں نے اپنے نام بتائے تو عتبہ نے کہا:
تم ہمارے جوڑ کے نہیں ہو، ہم تم سے لڑنے نہیں آئے، پر آوازدی کہ تم لوگ ہماری توہین نہ کرو۔
ہم ان کاشتکاروں سے لڑنے نہیں آئے۔
ہمارے مقابلے میں ان لوگوں کو بھیجو جو ہمارے ہمسر اور ہمارے جوڑ کے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اورسیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومیدان میں نکلنے کے لیے کہا۔
سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو جلد ہی عتبہ کو ٹھکانے لگا دیا، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شیبہ کو واصل جہنم کیا لیکن حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ولید بن عتبہ سے سخت مقابلہ ہوا۔
دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے پر کاری وار کیا۔
حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ٹانگیں کٹ گئیں، پھر سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور انھوں نے ولید کا کام تمام کردیا اور حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو دم توڑ رہے تھے انھیں اٹھا کر لے آئے۔
(سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2665)

بہرحال ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ﴾ یہ دونوں تثنیہ کے صیغے ہیں، اس سے مراد گمراہ فرقے اور ان کے مقابلے میں دوسرا فرقہ مسلمان بھی ہوسکتے ہیں۔
یہ دونوں گروہ اپنے رب کے متعلق جھگڑتے ہیں۔
مسلمان تو اس کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کے قائل ہیں جبکہ دوسرے گروہ اللہ تعالیٰ کے متعلق مختلف گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔
اس ضمن میں میدان بدر میں لڑنے والے مسلمان اور کافر بھی آجاتے ہیں جس کے آغاز میں ایک طرف حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور دوسری طرف ان کے مقابلے میں کافروں میں سے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ تھے۔
امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عموم کے اعتبار سے یہ دونوں مفہوم صحیح اور آیت کے مطابق ہیں۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4744]

Sahih Bukhari Hadith 4744 in Urdu