صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب قوله: {والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التى حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما} العقوبة:
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے وہ قتل نہیں کرتے، مگر ہاں حق پر اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اسے سزا بھگتنی ہی پڑے گی“ «أثاما» کے معنی عقوبت و سزا ہے۔
حدیث نمبر: 4763
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ، فَرَحَلْتُ فِيهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن نعمان نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ اہل کوفہ کا مومن کے قتل کے مسئلے میں اختلاف ہوا (کہ اس کے قاتل کی توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں) تو میں سفر کر کے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ (سورۃ نساء کی آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی جہنم ہے۔) اس سلسلہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور کسی دوسری سے منسوخ نہیں ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4763]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اہلِ کوفہ کا مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کے متعلق اختلاف ہوا تو میں سفر کر کے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔“ انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت (سورہ نساء والی) [سورة النساء: 93] اس سلسلے میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور اس کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4763]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4763 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4763
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ نساء کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ حسب ذیل ہے:
”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرڈالے تو اس کی سزا دوزخ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اس پر اللہ کا غضب ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
“ (النساء: 93/4)
اس موقف پر ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ نساء کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ حسب ذیل ہے:
”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرڈالے تو اس کی سزا دوزخ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اس پر اللہ کا غضب ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
“ (النساء: 93/4)
اس موقف پر ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4763]
Sahih Bukhari Hadith 4763 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي