🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب: {عتل بعد ذلك زنيم} :
باب: آیت کی تفسیر یعنی وہ کافر ”سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدذات بھی ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4917-2
التَّفَاوُتُ الِاخْتِلَافُ وَالتَّفَاوُتُ وَالتَّفَوُّتُ وَاحِدٌ تَمَيَّزُ تَقَطَّعُ: مَنَاكِبِهَا، جَوَانِبِهَا: تَدَّعُونَ، وَتَدْعُونَ وَاحِدٌ مِثْلُ تَذَّكَّرُونَ وَتَذْكُرُونَ، وَيَقْبِضْنَ يَضْرِبْنَ بِأَجْنِحَتِهِنَّ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: صَافَّاتٍ: بَسْطُ أَجْنِحَتِهِنَّ وَنُفُورٌ الْكُفُورُ.
‏‏‏‏ «التفاوت» کا معنی اختلاف، فرق «تفاوت» اور «تفوت» دونوں کا ایک معنی ہے۔ «تميز‏» ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ «مناكبها‏» اس کے کناروں میں۔ «تدعون» (دال کی تشدید) اور «تدعون» (دال کے جزم کے ساتھ) دونوں کا ایک ہی معنی ہے جیسے «تذكرون‏.‏» اور «تذكرون‏» (ذال کے جزم کے ساتھ) کا ایک ہی معنی ہے۔ «يقبضن‏» اپنے پنکھ مارتے ہیں (یا سمیٹ لیتے ہیں)۔ مجاہد نے کہا «صافات‏» کے معنی اپنے بازو کھولے ہوئے۔ «نفور» سے کفر اور شرارت مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4917-2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4917
وَقَالَ قَتَادَةُ: حَرْدٍ: جِدٍّ فِي أَنْفُسِهِمْ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَتَخَافَتُونَ يَنْتَجُونَ السِّرَارَ وَالْكَلَامَ الْخَفِيَّ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَضَالُّونَ: أَضْلَلْنَا مَكَانَ جَنَّتِنَا، وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالصَّرِيمِ: كَالصُّبْحِ انْصَرَمَ مِنَ اللَّيْلِ وَاللَّيْلِ انْصَرَمَ مِنَ النَّهَارِ وَهُوَ أَيْضًا كُلُّ رَمْلَةٍ انْصَرَمَتْ مِنْ مُعْظَمِ الرَّمْلِ، وَالصَّرِيمُ أَيْضًا الْمَصْرُومُ مِثْلُ قَتِيلٍ وَمَقْتُولٍ.
‏‏‏‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «يتخافتون» چپکے چپکے، کانا پھوسی کرتے ہوئے۔ قتادہ نے کہا «حرد» کے معنی دل سے کوشش کرنا یا بخیلی یا غصہ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لضالون» کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے باغ کی جگہ بھول گئے، بھٹک گئے اور آگے بڑھ گئے۔ اوروں نے کہا «صريم» کے معنی صبح جو رات سے کٹ کر الگ ہو جاتی ہے یا رات جو دن سے کٹ کر الگ ہو جاتی ہے۔ «صريم» اس ریتی کو بھی کہتے ہیں جو ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں سے کٹ کر الگ ہو جائے۔ «صريم»، «مصروم» کے معنی میں ہے جیسے «قتيل»، «مقتول» کے معنوں میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4917]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4917
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ سورة القلم آية 13، قَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: لَهُ زَنَمَةٌ مِثْلُ زَنَمَةِ الشَّاةِ.
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابوحصین نے، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «عتل بعد ذلك زنيم‏» یعنی وہ ظالم سخت مزاج ہے اس کے علاوہ حرامی بھی ہے۔ کے متعلق فرمایا کہ یہ آیت قریش کے ایک شخص کے بارے میں ہوئی تھی اس کی گردن میں نشانی تھی جیسے بکری میں نشانی ہوتی ہے کہ بعض ان میں کا کوئی عضو بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4917]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين
Newعثمان بن عاصم الأسدي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت سنى
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← عثمان بن عاصم الأسدي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← عبيد الله بن موسى العبسي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4917 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4917
حدیث حاشیہ:
بعض اوقات بکری یا آدمی کے کان کے ساتھ گوشت کا ایک زائد ٹکڑا لگا ہوتا ہے۔
اسے عربی زبان میں (زنمة)
کہتے ہیں بعض اہل علم زنیم اس آدمی کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے ساتھ ملحق ہو۔
ان کا فرد نہ ہو۔
جس طرح گلے یا کان میں زائد ٹکڑا بے مقصد ہوتا ہے اسی طرح وہ آدمی بھی اپنی قوم میں کسی اہمیت کا مالک نہیں ہوتا۔
جس کافر کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی تھیں وہ واقعی انھی صفات کا حامل تھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4917]