صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب المساجد التى على طرق المدينة والمواضع التى صلى فيها النبى صلى الله عليه وسلم.:
باب: ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 492
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ، وَمُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ تَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ تُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ".
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑ کے دونوں کونوں کا رخ کیا جو اس کے اور جبل طویل کے درمیان کعبہ کی سمت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کو جو اب وہاں تعمیر ہوئی ہے اپنی بائیں طرف کر لیتے ٹیلے کے کنارے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اس سے نیچے سیاہ ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے جو تمہارے اور کعبہ کے درمیان ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 492]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑ کے دونوں دروں کا رخ کیا جو اس کے اور جبل طویل کے درمیان کعبے کی سمت میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کو جو ٹیلے کے کنارے پر اب وہاں تعمیر ہوئی ہے، اپنی بائیں جانب کر لیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اس سے نیچے سیاہی مائل ٹیلے پر تھی۔ (اگر تو) ٹیلے سے کم و بیش دس ہاتھ چھوڑ کر وہاں نماز پڑھے تو تیرا رخ سیدھا پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی طرف ہو گا، یعنی وہ پہاڑی جو تیرے اور بیت اللہ کے درمیان واقع ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 492]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 492 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:492
حدیث حاشیہ:
1۔
ساتویں منزل:
یہ منزل ذوطوی کے نام سے ذکر کی گئی ہے۔
ذوطوی مکہ مکرمہ سے تین میل سے کچھ کم فاصلے پر ایک جگہ کا نام ہے۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کی آخری منزل ہے۔
آپ یہاں قیام فرماتے، پھر نماز فجر پڑھ کر مکہ مکرمہ تشریف لے جاتے۔
ان روایات میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک ان مقامات کی تفصیل بیان کی ہے۔
جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر میں نمازیں ادا کی تھیں۔
زمانہ قدیم ہی سے اکثر مقامات معدوم ہوچکے ہیں، لیکن کچھ مقامات متعین ہیں اور وہاں مساجد بنا دی گئی ہیں۔
واللہ أعلم۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒ نے علامہ بغوی ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جن مساجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنا ثابت ہے ان میں سے کسی مسجد کے متعلق نماز پڑھنے کی نذر کرلی جائے تو وہ مساجد ثلاثہ کی طرح عمل کے لیے متعین ہوجائے گی، یعنی اس مسجد میں جاکر نماز ادا کرنا واجب ہوجائے گا۔
(فتح الباري: 738/1)
لیکن ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں کیونکہ حدیث کے خلاف ہے، چنانچہ حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگراللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح مکہ عطا فرمائی تو میں بیت المقدس میں دو رکعت نماز پڑھوں گا۔
آپ نے فرمایا:
”اگرتم یہیں مکہ میں نماز پڑھ لو تو تمہاری نذر پوری ہوجائے گی۔
“ (سنن أبي داود، الإیمان والنذور، حدیث: 3305)
3۔
امام بخاری ؒ نے یہاں ان مساجد کا ذکر کیا ہے جو مدینے سے مکہ جاتے ہوئے راستے میں آتی ہیں، لیکن مدینہ منورہ میں متعدد مساجد ایسی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی چونکہ وہ امام بخاری ؒ کی شرائط صحت پر پوری نہ اترتی تھی، اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا۔
ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
مسجد قباء، مسجد فتح، مسجد قبلتین، مسجد بنی قریظہ، مسجد شمس، مسجد اجابہ، مسجد مشربہ ام ابراہیم اور مسجد بغلہ وغیرہ۔
ان کے علاوہ بعض مساجد ایسی بھی ہیں جن کا آج نام ونشان تک نہیں۔
اب ان کاتذکرہ صرف کتابوں میں ملتا ہے۔
(فتح الباري: 738/1)
1۔
ساتویں منزل:
یہ منزل ذوطوی کے نام سے ذکر کی گئی ہے۔
ذوطوی مکہ مکرمہ سے تین میل سے کچھ کم فاصلے پر ایک جگہ کا نام ہے۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کی آخری منزل ہے۔
آپ یہاں قیام فرماتے، پھر نماز فجر پڑھ کر مکہ مکرمہ تشریف لے جاتے۔
ان روایات میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک ان مقامات کی تفصیل بیان کی ہے۔
جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر میں نمازیں ادا کی تھیں۔
زمانہ قدیم ہی سے اکثر مقامات معدوم ہوچکے ہیں، لیکن کچھ مقامات متعین ہیں اور وہاں مساجد بنا دی گئی ہیں۔
واللہ أعلم۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒ نے علامہ بغوی ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جن مساجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنا ثابت ہے ان میں سے کسی مسجد کے متعلق نماز پڑھنے کی نذر کرلی جائے تو وہ مساجد ثلاثہ کی طرح عمل کے لیے متعین ہوجائے گی، یعنی اس مسجد میں جاکر نماز ادا کرنا واجب ہوجائے گا۔
(فتح الباري: 738/1)
لیکن ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں کیونکہ حدیث کے خلاف ہے، چنانچہ حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگراللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح مکہ عطا فرمائی تو میں بیت المقدس میں دو رکعت نماز پڑھوں گا۔
آپ نے فرمایا:
”اگرتم یہیں مکہ میں نماز پڑھ لو تو تمہاری نذر پوری ہوجائے گی۔
“ (سنن أبي داود، الإیمان والنذور، حدیث: 3305)
3۔
امام بخاری ؒ نے یہاں ان مساجد کا ذکر کیا ہے جو مدینے سے مکہ جاتے ہوئے راستے میں آتی ہیں، لیکن مدینہ منورہ میں متعدد مساجد ایسی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی چونکہ وہ امام بخاری ؒ کی شرائط صحت پر پوری نہ اترتی تھی، اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا۔
ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
مسجد قباء، مسجد فتح، مسجد قبلتین، مسجد بنی قریظہ، مسجد شمس، مسجد اجابہ، مسجد مشربہ ام ابراہیم اور مسجد بغلہ وغیرہ۔
ان کے علاوہ بعض مساجد ایسی بھی ہیں جن کا آج نام ونشان تک نہیں۔
اب ان کاتذکرہ صرف کتابوں میں ملتا ہے۔
(فتح الباري: 738/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 492]
Sahih Bukhari Hadith 492 in Urdu