🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب الترتيل فى القراءة:
باب: قرآن مجید کی تلاوت صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5043
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَرَتِّلِ الْقُرْءَانَ تَرْتِيلا سورة المزمل آية 4، وَقَوْلِهِ: وَقُرْءَانًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ سورة الإسراء آية 106 وَمَا يُكْرَهُ أَنْ يُهَذَّ كَهَذِّ الشِّعْرِ فِيهَا يُفْرَقُ سورة الدخان آية 4 يُفَصَّلُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَقْنَاهُ سورة الإسراء آية 106: فَصَّلْنَاهُ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ مزمل میں فرمایا «ورتل القرآن ترتيلا‏» اور قرآن مجید کو ترتیل سے پڑھ۔ (یعنی ہر ایک حرف اچھی طرح نکال کر اطمینان کے ساتھ) اور سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا «وقرآنا فرقناه لتقرأه على الناس على مكث‏» اور ہم نے قرآن مجید کو تھوڑا تھوڑا کر کے اس لیے بھیجا کہ تو ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو پڑھ کر سنائے اور شعر و سخن کی طرح اس کا جلدی جلدی پڑھنا مکروہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا اس سورت میں جو لفظ «فرقناه‏» کا لفظ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اسے کئی حصے کر کے اتارا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: Q5043]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5043
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَجُلٌ:" قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ، وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے واصل احدب نے، ان سے ابووائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم ان کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے (تمام) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہو گی۔ ہم سے قرآت سنی ہے اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں «حم‏.‏» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5043]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم صبح صبح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ایک آدمی نے کہا کہ: میں نے گزشتہ رات مفصل کی تمام سورتیں پڑھی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شعروں کی طرح تیز تیز پڑھی ہیں؟ بلاشبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سنی ہے اور مجھے وہ سورتوں کے جوڑے بھی یاد ہیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم (نمازوں میں) ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ وہ مفصل کی اٹھارہ سورتیں ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں «حٰمٓ» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5043]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥واصل بن حيان الأحدب
Newواصل بن حيان الأحدب ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥مهدي بن ميمون الأزدي، أبو يحيى
Newمهدي بن ميمون الأزدي ← واصل بن حيان الأحدب
ثقة
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← مهدي بن ميمون الأزدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5043 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5043
حدیث حاشیہ:

اس روایت کی تفصیل اس طرح ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں نے آج رات مفصل کی تمام سورتیں ایک رکعت میں پڑھی ہیں۔
اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
یہ تو شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے چلے جانا ہے اور خراب کھجوروں کی طرح اسے بکھیر دینا ہے۔
(مسندأحمد: 418/1)
علامہ خطابی نے اس کے معنی بیان کیے ہیں کہ جلدی جلدی، سوچ بچار اورتدبر کے بغیر پڑھنا ہے جس طرح شعر پڑھے جاتے ہیں۔

بہرحال قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے اورمخارج حروف اور اس کی صفات کا خیال رکھنا چاہیے۔
قرآن مجید کو جلدی جلدی اورکاٹ کاٹ کر پڑھنا غیر مستحسن ہے۔
(فتح الباري: 112/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5043]

Sahih Bukhari Hadith 5043 in Urdu