🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب لا يتزوج أكثر من أربع:
باب: چار بیویوں سے زیادہ (بیک وقت) آدمی نہیں رکھ سکتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5098
لِقَوْلِهِ تَعَالَى: مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَام: يَعْنِي مَثْنَى أَوْ ثُلَاثَ أَوْ رُبَاعَ، وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة فاطر آية 1 يَعْنِي مَثْنَى أَوْ ثُلَاثَ أَوْ رُبَاعَ.
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «مثنى وثلاث ورباع» واؤ «أو» کے معنی میں ہے۔ (یعنی دو بیویاں رکھو یا تین یا چار) زین العابدین بن حسین علیہ السلام فرماتے ہیں یعنی دو یا تین یا چار جیسے سورۃ فاطر میں اس کی نظیر موجود ہے «أولي أجنحة مثنى وثلاث ورباع» یعنی دو پنکھ والے فرشتے یا تین والے یا چار پنکھ والے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5098]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، قَالَتْ:الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ وَهُوَ وَلِيُّهَا فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا، وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، وَلَا يَعْدِلُ فِي مَالِهَا، فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهَا مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ".
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وإن خفتم أن لا،‏‏‏‏ تقسطوا في اليتامى‏» اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ ولی اس سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کرتے اور اچھی طرح اس سے سلوک نہ کرتے اور نہ اس کے مال کے بارے میں انصاف کرتے ایسے شخصوں کو یہ حکم ہوا کہ اس یتیم لڑکی سے نکاح نہ کریں بلکہ اس کے سوا جو عورتیں بھلی لگیں ان سے نکاح کر لیں۔ دو دو، تین تین یا چار چار تک کی اجازت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5098]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ درج ذیل آیت ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ﴾ [سورة النساء: 3] اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچیوں کے متعلق انصاف نہیں کر سکو گے... کے متعلق فرماتی ہیں، انہوں نے فرمایا: یتیم کسی سرپرست کے زیر کفالت ہوتی، وہ اس کے مال کی وجہ سے اس کے ساتھ نکاح کر لیتا لیکن اس سے اچھا سلوک نہ کرتا اور نہ اس کے مال کے متعلق عدل و انصاف ہی سے کام لیتا، اسے حکم دیا گیا کہ ان کے علاوہ جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو، خواہ دو دو سے یا تین تین سے یا چار چار سے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5098]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلام البيكندي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5098 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5098
حدیث حاشیہ:
بیک وقت شریعت اسلامی میں چارسے زائد بیویاں رکھنا قطعاًحرام ہے۔
باب میں حضرت امام بخاری نے حضرت زین العابدین کا قول نقل کر کے رافضیوں کا رد کیا کیونکہ وہ ان کو بہت مانتے ہیں پھر ان کے قول کے خلاف قرآن شریف کی تفسیر کیونکر جائز رکھتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5098]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5098
حدیث حاشیہ:
(1)
اسلامی شریعت میں بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں رکھنا حرام ہے۔
چار کی اجازت بھی عدل وانصاف کے ساتھ مشروط ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے۔
دوسری احادیث میں اس کی وضاحت ہے:
٭ حضرت غیلان رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان میں سے چار کا انتخاب کر لو اور باقی عورتوں کو اپنے سے جدا کردو۔
(سنن ابن ماجه، النكاح، حديث: 1953)
٭ حضرت قیس بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
میں جب مسلمان ہوا تو میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان میں سے چار پسند کرلو۔
(سنن أبي داود، الطلاق، حديث: 2241)
٭نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کی پانچ بیویاں تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا:
چار کو رکھ لو اور دوسری، یعنی پانچویں کو چھوڑ دو۔
(السنن الكبريٰ للبيهقي: 184/7) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مذکورہ عنوان کے متعلق لکھا ہے کہ اس کا حکم اجماع سے ثابت ہے۔
(فتح الباري: 174/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5098]

Sahih Bukhari Hadith 5098 in Urdu