صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب الخلع وكيف الطلاق فيه:
باب: خلع کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 5277
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے عکرمہ نے یہی قصہ (مرسلاً) نقل کیا اور اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5277]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله | ثقة | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← عكرمة مولى ابن عباس | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة إمام حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5277 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5277
حدیث حاشیہ:
1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث میں اشارہ کیا ہے کہ جس عورت نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے خلع لیاتھا اس کا نام جمیلہ ہے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خلع لینے والی عبداللہ بن ابی کی بیٹی زینب تھی۔
سنن ابن ماجہ کی ایک روایت میں اس کا نام مریم مغالیہ مذکور ہے۔
(سنن ابن ماجة، الطلاق، حدیث: 2058)
صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق وہ عبداللہ بن ابی کی بہن تھی۔
(صحیح البخاري، الطلاق، حدیث: 5274)
اکثر روایات میں اس کا نام حبیبہ بنت سہل آیا ہے۔
(سنن أبي داود، الطلاق، حدیث: 2227، و سنن النسائي، الطلاق، حدیث: 3493، والموطأ: 564/2)
(2)
ان مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے متعدد عورتوں سے شادی کی اور وہ ان سے بذریعہ خلع فارغ ہوئیں۔
(فتح الباري: 494/9)
والله اعلم
1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث میں اشارہ کیا ہے کہ جس عورت نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے خلع لیاتھا اس کا نام جمیلہ ہے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خلع لینے والی عبداللہ بن ابی کی بیٹی زینب تھی۔
سنن ابن ماجہ کی ایک روایت میں اس کا نام مریم مغالیہ مذکور ہے۔
(سنن ابن ماجة، الطلاق، حدیث: 2058)
صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق وہ عبداللہ بن ابی کی بہن تھی۔
(صحیح البخاري، الطلاق، حدیث: 5274)
اکثر روایات میں اس کا نام حبیبہ بنت سہل آیا ہے۔
(سنن أبي داود، الطلاق، حدیث: 2227، و سنن النسائي، الطلاق، حدیث: 3493، والموطأ: 564/2)
(2)
ان مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے متعدد عورتوں سے شادی کی اور وہ ان سے بذریعہ خلع فارغ ہوئیں۔
(فتح الباري: 494/9)
والله اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5277]
حدیث نمبر: Q5277
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِلَى قَوْلِهِ: خَبِيرًا سورة النساء آية 35.
اور اللہ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا «وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها» ”اگر تم میاں بیوی کی نااتفاقی سے ڈرو تو ایک پنچ مرد والوں میں سے بھیجو اور ایک پنچ عورت کی طرف سے مقرر کرو۔“ (آخر آیت تک)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5277]
أيوب السختياني ← عكرمة مولى ابن عباس