صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب من أدخل الضيفان عشرة عشرة:
باب: دس دس مہمانوں کو ایک ایک بار بلا کر کھانے پر بٹھانا۔
حدیث نمبر: Q5450
وَالْجُلُوسِ عَلَى الطَّعَامِ عَشَرَةً عَشَرَةً.
. [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5450]
حدیث نمبر: 5450
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ. ح وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَعَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّهُ عَمَدَتْ إِلَى مُدٍّ مِنْ شَعِيرٍ جَشَّتْهُ وَجَعَلَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً وَعَصَرَتْ عُكَّةً عِنْدَهَا، ثُمَّ بَعَثَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَدَعَوْتُهُ، قَالَ: وَمَنْ مَعِي، فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ يَقُولُ وَمَنْ مَعِي، فَخَرَجَ إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ صَنَعَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَدَخَلَ فَجِيءَ بِهِ، وَقَالَ: أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ: أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ: أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً، حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْءٌ".
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے جعد ابوعثمان نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور (اس کی روایت حماد نے) ہشام سے بھی کی، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور سنان ابوربیعہ سے (بھی کی) اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک مد جَو لیا اور ان سے پیس کر اس کا «خطيفة» (آٹے کو دودھ میں ملا کر پکاتے ہیں) پکایا اور ان کے پاس جو گھی کا ڈبہ تھا اس میں اس پر سے گھی نچوڑا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (بلانے کے لیے) بھیجا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ کو کھانا کھانے کے لیے بلایا۔ آپ نے دریافت فرمایا اور وہ لوگ بھی جو میرے ساتھ ہیں؟ چنانچہ میں واپس آیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ جو میرے ساتھ موجود ہیں وہ بھی چلیں گے۔ اس پر ابوطلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو ایک چیز ہے جو ام سلیم نے آپ کے لیے پکائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھانا آپ کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو میرے پاس اندر بلا لو۔ چنانچہ دس صحابہ داخل ہوئے اور کھانا پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا دس آدمیوں کو میرے پاس اور بلا لو۔ یہ دس بھی اندر آئے اور پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا اور دس آدمیوں کو بلا لو۔ اس طرح انہوں نے چالیس آدمیوں کا شمار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر آپ کھڑے ہوئے تو میں دیکھنے لگا کہ کھانے میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5450]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک مُدّ جو لیے اور ان کو دَل کر دلیا بنایا، پھر اسے دودھ میں پکایا، اس کے بعد اس پکوان پر کپی سے گھی نچوڑا۔ پھر مجھے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھی بھی ہیں۔“ یہ سن کر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! کھانا تھوڑا سا ہے جو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے تیار کیا ہے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس صحابہ کو بلاؤ۔“ چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا حتیٰ کہ وہ سیر ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس مزید بلاؤ۔“ یہاں تک کہ چالیس آدمی شمار کیے۔ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا پھر اٹھ کر تشریف لے گئے۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ) میں کھانے کو دیکھتا رہا آیا اس سے کوئی چیز کم ہوئی ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5450]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5450 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5450
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس، دس آدمیوں کو بلایا کیونکہ کھانا پیالے میں تھا، اس میں دس سے زیادہ لوگ نہیں کھا سکتے تھے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اکٹھے کھانے میں برکت ہے۔
اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ ایک آدمی کے لیے تیار کیا گیا کھانا چالیس آدمیوں نے کھایا اور وہ سب اس سے خوب سیر ہوئے لیکن کھانا ذرہ بھر بھی کم نہ ہوا۔
(3)
بہرحال اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جگہ کی قلت کے پیش نظر مدعوین کو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور کم و بیش کر کے کھانے پر بلایا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 711/9)
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس، دس آدمیوں کو بلایا کیونکہ کھانا پیالے میں تھا، اس میں دس سے زیادہ لوگ نہیں کھا سکتے تھے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اکٹھے کھانے میں برکت ہے۔
اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ ایک آدمی کے لیے تیار کیا گیا کھانا چالیس آدمیوں نے کھایا اور وہ سب اس سے خوب سیر ہوئے لیکن کھانا ذرہ بھر بھی کم نہ ہوا۔
(3)
بہرحال اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جگہ کی قلت کے پیش نظر مدعوین کو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور کم و بیش کر کے کھانے پر بلایا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 711/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5450]
Sahih Bukhari Hadith 5450 in Urdu
سنان بن ربيعة الباهلي ← أنس بن مالك الأنصاري