صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب نزل تحريم الخمر وهى من البسر والتمر:
باب: شراب کی حرمت جب نازل ہوئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 5583
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ عُمُومَتِي، وَأَنَا أَصْغَرُهُمُ الْفَضِيخَ، فَقِيلَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالُوا: أَكْفِئْهَا، فَكَفَأْتُهَا، قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا شَرَابُهُمْ؟، قَالَ: رُطَبٌ وَبُسْرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ وَكَانَتْ خَمْرَهُمْ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ، وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے شراب پھینک دی۔ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کس چیز کی شراب بنتی تھی؟ فرمایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ ان کی شراب (کھجور کی) ہوتی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا اور مجھ سے میرے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5583]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں ایک قبیلے میں کھڑا اپنے چچاؤں کو کھجوروں سے تیار کردہ شراب پلا رہا تھا کیونکہ میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ اس دوران میں کسی نے کہا کہ ”شراب حرام کر دی گئی ہے۔“ حاضرین نے کہا: ”اب اسے بہا دو“، چنانچہ میں نے شراب کو بہا دیا۔“ راوی نے پوچھا کہ ”یہ شراب کس چیز سے بنتی تھی؟“ انہوں نے فرمایا: ”تازہ کچی پکی کھجوروں سے۔“ حضرت ابوبکر بن انس نے کہا: ”ان کی شراب یہی ہوتی تھی۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہ کیا، میرے کچھ ساتھیوں نے خبر دی انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”اس وقت ان کی شراب اس قسم کی ہوتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5583]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5583 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5583
حدیث حاشیہ:
جیسا کہ حدیث ذیل میں موجود ہے۔
جیسا کہ حدیث ذیل میں موجود ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5583]
Sahih Bukhari Hadith 5583 in Urdu
سليمان بن طرخان التيمي ← أنس بن مالك الأنصاري