🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب النوم قبل العشاء لمن غلب:
باب: اگر نیند کا غلبہ ہو جائے تو عشاء سے پہلے بھی سونا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
وَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَكَذَا، فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ يَدَهُ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ؟ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ، ثُمَّ ضَمَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ عَلَى الصُّدْغِ، وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطُشُ إِلَّا كَذَلِكَ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَكَذَا.
تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی جس کے نتیجہ میں لوگ (مسجد ہی میں) سو گئے۔ پھر بیدار ہوئے پھر سو گئے ‘ پھر بیدار ہوئے۔ آخر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور پکارا نماز عطاء نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لائے۔ وہ منظر میری نگاہوں کے سامنے ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میری امت کے لیے مشکل نہ ہو جاتی، تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز کو اسی وقت پڑھیں۔ میں نے عطاء سے مزید تحقیق چاہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سر پر رکھنے کی کیفیت کیا تھی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں اس سلسلے میں کس طرح خبر دی تھی۔ اس پر عطاء نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں تھوڑی سی کھول دیں اور انہیں سر کے ایک کنارے پر رکھا پھر انہیں ملا کر یوں سر پر پھیرنے لگے کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے سے جو چہرے سے قریب ہے اور داڑھی سے جا لگا۔ نہ سستی کی اور نہ جلدی، بلکہ اس طرح کیا اور کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری امت پر مشکل نہ گزرتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 571]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء میں تاخیر فرمائی یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر نماز کے لیے کہا۔ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ گویا میں اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کو سر پر رکھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر گراں خیال نہ کرتا تو یہ حکم دیتا کہ وہ اسی وقت یہ نماز پڑھا کریں۔ راوی کہتا ہے: میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے بطورِ تحقیق پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بیان کے مطابق اپنا ہاتھ اپنے سر پر کس طرح رکھا تھا؟ تو حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اپنی انگلیاں قدرے کشادہ کیں، پھر انگلیوں کے کنارے سر کے کونے پر رکھے، پھر انگلیوں کو سر پر اس طرح کھینچا کہ انگوٹھے نے کانوں کے اس کنارے کو مس کیا جو کنپٹی اور داڑھی کے کونے پر چہرے کے قریب ہے۔ نہ آپ اس میں کمی کر رہے تھے اور نہ مضبوط پکڑ رہے تھے، بس ایسے کر رہے تھے، جیسے میں کہہ رہا ہوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
صحابي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 571 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 571
تشریح:
صحابہ کرام تاخیر کی وجہ سے نماز سے پہلے سو گئے۔ پس معلوم ہوا کہ ایسے وقت میں نماز عشاء سے پہلے بھی سونا جائز ہے۔ بشرطیکہ نماز عشاء باجماعت پڑھی جا سکے۔ جیسا کہ یہاں صحابہ کرام کا عمل منقول ہے یہی باب کا مقصد ہے۔
«لايقصر» کا مطلب یہ کہ جیسے میں ہاتھ پھیر رہا ہوں اسی طرح پھیرا، نہ اس سے جلدی پھیرا، نہ اس سے دیر میں۔ بعض نسخوں میں لفظ «لايعصر» ہے تو ترجمہ یوں ہو گا۔ نہ بالوں کو نچوڑتے نہ ہاتھ میں پکڑتے بلکہ اسی طرح کرتے۔ یعنی انگلیوں سے بالوں کو دبا کر پانی نکال رہے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 571]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:571
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کے پیش نظر بعض حضرات کا خیال ہے کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، کیونکہ حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں سو گئے اور اس کے بعد وضوکرنے کا ذکر نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے وہ اس انداز سے زمین پر جم کر بیٹھنے کی حالت میں سوئے ہوں کہ خروج ریح کا امکان نہ ہو یا وہ لیٹ کر سوئے ہوں، پھر بیدار ہونے کہ بعد وضو کرکے نماز میں شمولیت اختیار کی ہو۔
اگرچہ روایت میں وضو کرنے کا ذکر نہیں ہے، لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ وہ وضو کے بغیر نماز نہیں پڑھتے تھے۔
(فتح الباري: 67/2) (2)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ ہر دو روایات سے ثابت کیا ہے کہ نماز سے پہلے غیر اختیاری نیند مکروہ نہیں۔
اختیاری حالات میں نماز عشاء سے پہلے اس وقت سونا مکروہ ہے جب نماز کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو۔
اگر کسی نے بیداری کا بندوبست کررکھا ہو تو اس کے لیے نماز سے پہلے سونا کسی صورت میں ناپسندیدہ نہیں۔
جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ نماز عشاء سے پہلے بعض اوقات سو جاتے اور اپنے اہل خانہ کو کہہ دیتے کہ مجھےنماز کے وقت بیدار کر دیا جائے۔
حدیث ابن عباس سے عنوان اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تشریف لانے کے بعد سونے والوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ آپ کی طرف سے انتظار کرنے کی تعریف کی گئی۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے کرتے کچھ لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے، البتہ حضرت عثمان بن مظعون ؓ اور ان کے ساتھ تقریباً سولہ آدمی مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منتطر تھے۔
(فتح الباري: 68/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 571]

Sahih Bukhari Hadith 571 in Urdu