🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب يبل الرحم ببلالها:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ناطہٰ اگر قائم رکھ کر تروتازہ رکھا جائے (یعنی ناطہٰ کی رعایت کی جائے) تو دوسرا بھی ناطہٰ کو تروتازہ رکھے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5990
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ: إِنَّ آلَ أَبِي، قَالَ عَمْرٌو: فِي كِتَابِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بَيَاضٌ لَيْسُوا بِأَوْلِيَائِي، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ، زَادَ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ أَبُلُّهَا بِبَلَاهَا"، يَعْنِي أَصِلُهَا بِصِلَتِهَا. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بِبَلَاهَا كَذَا وَقَعَ وَبِبَلَالِهَا أَجْوَدُ وَأَصَحُّ وَبِبَلَاهَا لَا أَعْرِفُ لَهُ وَجْهًا.
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فلاں کی اولاد (یعنی ابوسفیان بن حکم بن عاص یا ابولہب کی اولاد) یہ عمرو بن عباس نے کہا کہ محمد بن جعفر کی کتاب میں اس وہم پر سفید جگہ خالی تھی (یعنی تحریر نہ تھی) میرے عزیز نہیں ہیں (گو ان سے نسبی رشتہ ہے) میرا ولی تو اللہ ہے اور میرے عزیز تو ولی ہیں جو مسلمانوں میں نیک اور پرہیزگار ہیں (گو ان سے نسبی رشتہ بھی نہ ہو)۔ عنبسہ بن عبدالواحد نے بیان بن بشر سے، انہوں نے قیس سے، انہوں نے عمرو بن العاص سے اتنا بڑھایا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا البتہ ان سے میرا رشتہ ناطہٰ ہے اگر وہ تر رکھیں گے تو میں بھی تر رکھوں گا یعنی وہ ناطہٰ جوڑیں گے تو میں بھی جوڑوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5990]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن العاص القرشي، أبو محمد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← عمرو بن العاص القرشي
ثقة
👤←👥بيان بن بشر الأحمسي، أبو بشر
Newبيان بن بشر الأحمسي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥عنبسة بن عبد الواحد القرشي، أبو خالد
Newعنبسة بن عبد الواحد القرشي ← بيان بن بشر الأحمسي
ثقة
👤←👥عمرو بن العاص القرشي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newعمرو بن العاص القرشي ← عنبسة بن عبد الواحد القرشي
صحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← عمرو بن العاص القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥عمرو بن العباس الباهلي، أبو عثمان
Newعمرو بن العباس الباهلي ← محمد بن جعفر الهذلي
صدوق حسن الحديث
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5990 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5990
حدیث حاشیہ:
کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5990]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 5990
تخريج الحديث:
[128۔ البخاري فى: 78 كتاب الأدب: 14 باب يبل الرحم ببلاها 5990، مسلم 215، أحمد 17820]
لغوی توضیح:
«جِهَارًا» اعلانیہ، ظاہری طور پر۔
«اَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا» میں اسے تر چیزوں سے گیلا کرتا رہوں گا، یعنی جوڑتا رہوں گا، عرب لوگ گیلا کرنے سے جوڑنا اور سکھانے سے توڑنا مراد لیتے ہیں۔
فھم الحدیث:
معلوم ہوا کہ دوستی و محبت اور رشتہ و تعلق صرف نیک لوگوں سے رکھنا چاہیے خواہ وہ رشتہ دار نہ بھی ہوں اور کفار و مشرکین سے اظہار برأت کرنا چاہیے خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اعلان برأت کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے بھی اسی کو اسوہ و نمونہ بنایا ہے۔ [سورة الممتحنة: آيت 4]
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 128]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5990
حدیث حاشیہ:
(1)
"بَلال" تری یا حلق میں تھوڑی سی مٹھاس کو کہا جاتا ہے۔
(2)
عمرو بن عباس امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد ہیں، وہ کہتے ہیں کہ محمد بن جعفر کی کتاب میں آل ابی..... کے بعد خالی جگہ تھی۔
اس میں کسی نام کی تصریح نہیں ہے۔
ممکن ہے کہ بعض راویوں نے فتنے کے خوف سے اس مقام پر کنایہ کرتے ہوئے اسے نظر انداز کر دیا ہو۔
(3)
حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ میں کس کی قرابت کی وجہ سے اس سے دوستی نہیں کرتا بلکہ میری دوستی کی بنیاد للہیت ہے، اس بنا پر صرف اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان سے دوستی کا دم بھرتا ہوں۔
دوسرے الفاظ میں میری محبت ایمانی اور اصلاحی ہے لیکن میں رشتے داری کے حق کو پامال نہیں کرتا اور ان کے حق کا لحاظ رکھتے ہوئے میں ان کا بھر پور تعاون کرتا ہوں۔
(4)
اس حدیث میں رحم کو اس زمین سے تشبیہ دی گئی ہے جو پانی سے تر ہو، جب وہ پوری طرح تر ہو تو پھل اور پیداوار دیتی ہے اور اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو خشک ہو جائے گی اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
وصل کو بلل کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اتصال کو چاہتا ہے اور قطعیت کو یبس کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے انفصال ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ اقرباء پروری دونوں طرف سے ہونی چاہیے، اگر وہ اس کا خیال رکھیں گے تو میں بھی ان کا خیال رکھوں گا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5990]