🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب هجاء المشركين:
باب: مشرکوں کی ہجو کرنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَكَيْفَ بِنَسَبِي"، فَقَالَ حَسَّانُ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ:" لَا تَسُبُّهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا اور میرا خاندان تو ایک ہی ہے (پھر تو میں بھی اس ہجو میں شریک ہو جاؤں گا)۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہجو سے آپ کو اس طرح صاف نکال دوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اور ہشام بن عروہ سے روایت ہے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی مجلس میں برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ حسان کو برا بھلا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مشرکوں کو جواب دیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6150]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مشرکین اور میرا خاندان تو ایک ہے) پھر میرے نسب کا کیا حال ہوگا؟ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو ان سے اس طرح نکالوں گا جیسے بال آٹے سے نکالا جاتا ہے۔ ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سب و شتم کرنے لگا تو انہوں نے فرمایا: حسان کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6150]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلام البيكندي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6150 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6150
حدیث حاشیہ:
مشرکوں کی ہجو کرتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف داری کرتا تھا۔
اس روایت سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک نفسی اوردین داری اور پرہیز گاری معلوم ہوتی ہے۔
آپ کس درجہ کی پاک نفس اور فرشتہ خصلت تھیں۔
چونکہ حسان رضی اللہ عنہ نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف داری کی تھی اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو اپنی ایذا کا جو ان کی طرف سے پہنچی تھی کچھ خیال نہ کیا اور ان کو برا کہنے سے منع فرمایا۔
اللہ پاک مسلمانوں کو بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی نیک فطرت عطا فرمائے کہ وہ باہمی طور پر ایک دوسرے کی برائیاں کرنے سے باز رہیں۔
(آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6150]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6150
حدیث حاشیہ:
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مداح تھے اور مشرکین کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو ہجو و مذمت کا حملہ ہوتا وہ اس کا جواب دیتے تھے لیکن بد قسمتی سے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں شامل تھے، اس لیے حضرت عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی، آپ انہیں اپنی مجلس میں کیوں بیٹھنے دیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا:
وہ جیسا بھی ہے لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتا تھا، اس حدیث سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک نفسی، دین پروری اور پرہیزگاری کا پتا چلتا ہے۔
حضرت حسان رضی اللہ عنہ کی طرف سے انہیں جو تکلیف پہنچی تھی انہوں نے اس کی ذرا پروا نہ کی اور انہیں برا بھلا کہنے سے منع فرمایا۔
(فتح الباري: 671/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6150]

Sahih Bukhari Hadith 6150 in Urdu