🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب سؤال الإمام المقر هل أحصنت:
باب: زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6826
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ، جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ.
ابن شہاب نے بیان کیا کہ جنہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی تھی انہوں نے مجھے خبر دی کہ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا تھا جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگنے لگے۔ لیکن ہم نے انہیں حرہ (حرہ مدینہ کی پتھریلی زمین) میں جا لیا اور انہیں رجم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← جابر بن عبد الله الأنصاري
0
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← اسم مبهم
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6826 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6826
حدیث حاشیہ:
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے حضرت ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں۔
اس حدیث سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بہت سے مسائل کا استنباط فرمایا ہے۔
تعجب ہے ان معاندین پر جو اتنے بڑے مجتہد کو درجہ اجتہاد سے گرا کر اپنے اندرونی عناد کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6826]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6826
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کسی شخص کے بارے میں فتویٰ پوچھنے نہیں آئے تھے بلکہ ان کے آنے کی غرض یہ تھی کہ میں نے زنا کیا ہے اور میرے متعلق شریعت کے تقاضے پورے کیے جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ست ڈھیروں سوال کیے جن میں ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا تو شادی شدہ ہے؟ کیونکہ رجم کے لیے شادی شدہ ہونا بنیادی شرط ہے۔
(2)
احصان یہ ہے کہ کسی عورت سے نکاح صحیح کے بعد جماع کر لیا جائے۔
یہ سوال اس وقت کرنا چاہیے جب اس کا شادی شدہ ہونا معروف نہ ہو۔
اگر اس کے شادی شدہ ہونے کی شہرت ہے تو اس قسم کا سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔
بہرحال امام کو چاہیے کہ حد قائم کرنے سے پہلے مکمل تحقیق وتفتیش کے تقاضے اچھی طرح پورے کرے۔
سعودی عرب میں ایسا ہی کیا جاتا ہے۔
جب راقم الحروف تھانہ جیاد مکہ مکرمہ میں مترجم تھا تو اس چیز کا کئی مرتبہ مشاہدہ کیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6826]