🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب من قتل له قتيل فهو بخير النظرين:
باب: جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6881
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ سورة البقرة آية 178، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، قَالَ: فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبیر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا، دیت کی صورت نہیں تھی۔ پھر اس امت کے لیے یہ حکم نازل ہوا «كتب عليكم القصاص في القتلى‏» الخ۔ ابن عباس نے کہا «فمن عفي له من أخيه شىء‏» سے یہی مراد ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں اور «فاتباع بالمعروف‏» سے یہ مراد ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے موافق قاتل سے دیت کا تقاضا کریں «وآداء اليه باحسان» سے یہ مراد ہے کہ قاتل اچھی طرح خوش دلی سے دیت ادا کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6881]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنی اسرائیل میں قصاص تھا، دیت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى﴾ [سورة البقرة: 178] اے ایمان والو! قتل کے مقدمات میں تم پر قصاص فرض کیا گیا ہے۔ ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ﴾ [سورة البقرة: 178] پھر اگر قاتل کو اس کا بھائی کوئی چیز (قصاص) معاف کر دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عفو یہ ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں۔ اور اتباع بالمعروف یہ ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے مطابق قاتل سے دیت کا مطالبہ کریں اور قاتل اچھی طرح خوش دلی سے دیت ادا کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6881]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6881 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6881
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قتل عمد میں دیت قبول کرنے یا قصاص لینے کا اختیار مقتول کے ورثاء کو ہے،اس میں قاتل کی رضامندی شرط نہیں۔
یہود کے ہاں صرف قصاص تھا جبکہ نصاریٰ میں قصاص کے بجائے معافی تھی لیکن اسلام نے اس افراط وتفریط کے درمیان میانہ روی کو اختیار کیا ہے کہ مقتول کے ورثاء اگر دیت پر راضی ہوجائیں تو انھیں اختیار ہے۔
اگر قاتل قصاص دینے پر اصرار کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اسے بھی دیت دینے پر مجبور کیا جائے کیونکہ قاتل بھی اپنی جان کی حفاظت کا ذمے دار ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:
خود کو قتل نہ کرو۔
(النساء4: 29)
اس لیے جب مقتول کے ورثاء دیت لینے پر رضامند ہوں تو قاتل کو اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے حدیث ابن عباس سے اس موقف کو ثابت کیا ہے۔
(فتح الباري: 255/12، 256)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6881]

Sahih Bukhari Hadith 6881 in Urdu