صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب من حكم فى المسجد حتى إذا أتى على حد أمر أن يخرج من المسجد فيقام:
باب: حد کا مقدمہ مسجد میں سننا پھر جب حد لگانے کا وقت آئے تو مجرم کو مسجد کے باہر لے جانا۔
حدیث نمبر: 7168
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ بِالْمُصَلَّى، رَوَاهُ يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجْمِ.
ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس شخص کو عیدگاہ پر رجم کیا تھا۔ اس کی روایت یونس، معمر اور ابن جریج نے زہری سے کی، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجم کے سلسلے میں یہی حدیث ذکر کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7168]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7168 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7168
حدیث حاشیہ:
عیدگاہ کے قریب ان کو رجم کیا گیا۔
یہ شخص ماعز بن مالک اسلمی مدنی ہے جو بحکم نبوی سنگسار کئے گئے۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
عیدگاہ کے قریب ان کو رجم کیا گیا۔
یہ شخص ماعز بن مالک اسلمی مدنی ہے جو بحکم نبوی سنگسار کئے گئے۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7168]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7168
حدیث حاشیہ:
1۔
مسجد میں حد قائم کرنے سے مسجد کا تقدس اور احترام قائم نہیں رہتا۔
ممکن ہے کہ حد لگاتے وقت مجرم سے کوئی ایسی چیز برآمد ہو۔
جو مسجد کے آداب کے خلاف ہو۔
اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماغر بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایا تھا۔
اسے مسجد سے باہر لے جاؤ اور وہاں اسے سنگسار کر دو۔
چنانچہ اسے مسجد سے باہر عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے اعتراض فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ اس کے متعلق کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب اس نے چار مرتبہ اقرار کر کے اپنے خلاف شہادت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا۔
ابن بطال کہتے ہیں کہ مساجد میں حدود قائم نہ کی جائیں اس سلسلے میں دو حدیثیں بھی مروی ہیں کہ مسجد میں حدود قائم نہ کی جائیں لیکن وہ قابل حجت نہیں بلکہ ضعیف ہیں۔
(فتح الباري: 195/13)
1۔
مسجد میں حد قائم کرنے سے مسجد کا تقدس اور احترام قائم نہیں رہتا۔
ممکن ہے کہ حد لگاتے وقت مجرم سے کوئی ایسی چیز برآمد ہو۔
جو مسجد کے آداب کے خلاف ہو۔
اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماغر بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایا تھا۔
اسے مسجد سے باہر لے جاؤ اور وہاں اسے سنگسار کر دو۔
چنانچہ اسے مسجد سے باہر عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے اعتراض فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ اس کے متعلق کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب اس نے چار مرتبہ اقرار کر کے اپنے خلاف شہادت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا۔
ابن بطال کہتے ہیں کہ مساجد میں حدود قائم نہ کی جائیں اس سلسلے میں دو حدیثیں بھی مروی ہیں کہ مسجد میں حدود قائم نہ کی جائیں لیکن وہ قابل حجت نہیں بلکہ ضعیف ہیں۔
(فتح الباري: 195/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7168]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري