🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب ما يكره من ثناء السلطان، وإذا خرج قال غير ذلك:
باب: بادشاہ کے سامنے منہ در منہ خوشامد کرنا، پیٹھ پیچھے اس کو برا کہنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7178
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أُنَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى سُلْطَانِنَا، فَنَقُولُ لَهُمْ خِلَافَ مَا نَتَكَلَّمُ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ، قَالَ:" كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اور ان سے ان کے والد نے کہ کچھ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ہم اپنے حاکموں کے پاس جاتے ہیں اور ان کے حق میں وہ باتیں کہتے ہیں کہ باہر آنے کے بعد ہم اس کے خلاف کہتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم اسے نفاق کہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن زيد القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عاصم بن محمد العمري
Newعاصم بن محمد العمري ← محمد بن زيد القرشي
ثقة
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← عاصم بن محمد العمري
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7178 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7178
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے کہ چند لوگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا بھلا کہنے لگے۔
آپ نے فرمایا:
تم ان کے سامنے بھی ایسا کہتے ہو؟انھوں نے کہا:
نہیں،بلکہ ہم ان کے سامنے تعریف کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا:
ہم اسی کو منافقت شمارکرتے تھے۔
(فتح الباري: 212/13 وسنن الکبری للبیهقي: 165/5)
ایک دوسری حدیث میں ہے:
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا:
یہ شخص بہت بُرا ہے۔
لیکن وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خندہ پیشانی سے ملے؟ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 6032)
اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اظہار حقیقت کیا تاکہ اس سے کوئی معاملہ نہ کریں اور جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا۔
ان دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں۔

بہرحال انسان کے ظاہرہ باطن میں یکسانیت ہونی چاہیے۔
ظاہر وباطن کے فرق کو منافقت کہا جاتا ہے لیکن یہ عملی منافقت ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ کفر کےقریب کر دیتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نفاق کفر تھا جبکہ ہمارے ہاں نفاق عمل پایا جاتا ہے۔
(فتح الباري: 212/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7178]

Sahih Bukhari Hadith 7178 in Urdu