🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب الاستخلاف:
باب: ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7221
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِوَفْدِ بُزَاخَةَ:" تَتْبَعُونَ أَذْنَابَ الْإِبِلِ حَتَّى يُرِيَ اللَّهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرِينَ أَمْرًا يَعْذِرُونَكُمْ بِهِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبائل بزاخہ کے وفد سے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گیا تھا اور اب معافی کے لیے آیا تھا) فرمایا کہ اونٹوں کی دموں کے پیچھے پیچھے جنگلوں میں گھومتے رہو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور مہاجرین کو کوئی امر بتلا دے جس کی وجہ سے وہ تمہارا قصور معاف کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7221]
حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بزاخہ کے وفد سے فرمایا تھا: تم لوگ اونٹوں کی دموں کے پیچھے پیچھے جنگلوں میں گھومتے رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور مہاجرین کو کوئی بات دکھا دے جس کی وجہ سے وہ تمہارا قصور معاف کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7221]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكرصحابي
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد الله
Newطارق بن شهاب البجلي ← أبو بكر الصديق
له رؤية
👤←👥قيس بن مسلم الجدلي، أبو عمرو
Newقيس بن مسلم الجدلي ← طارق بن شهاب البجلي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← قيس بن مسلم الجدلي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7221 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7221
حدیث حاشیہ:
قبیلہ اسد اور غطفان کے بہت سے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے اور طلحہ بن خویلد اسدی پر ایمان لے آئے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسیلمہ کذاب کے فتنے سے فارغ ہوئے تو ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، آخر کار وہ ان پر غالب آگئے۔
انھوں نے بے بس اور عاجز ہوکر ایک وفد حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بھیجا، اسی کو"وفد بزاخہ" کہا جاتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
جنگ اختیار کرلو جس کا نتیجہ جلاوطنی ہے یا ذلت کی صلح کرلو۔
انھوں نے کہا:
ذلت کی صلح سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا:
ہتھیار اور سامان جنگ ہمارے حوالے کردو۔
تمہارا لوٹ کا مال مسلمانوں میں تقسیم ہوگا اور دوران جنگ میں جو لوگ مارے گئے ہیں ان کی دیت ادا کرنا ہوگی اورجو تمہارے لوگ مارے گئے انھیں جہنم رسید خیال کرو پھر بے وطن ہوکر جنگلوں میں اونٹ چراتے رہو، حتی کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے خلیفہ اور مہاجرین کو وہ امر دکھائے جس کے باعث وہ تمھیں معذور خیال کریں۔
(فتح الباري: 259/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7221]

Sahih Bukhari Hadith 7221 in Urdu