Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب الجلوس على المنبر عند التأذين:
باب: جمعہ کی اذان ختم ہونے تک امام منبر پر بیٹھا رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 915
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ التَّأْذِينَ الثَّانِيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ حِينَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ سائب بن یزید نے انہیں خبر دی کہ جمعہ کی دوسری اذان کا حکم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس وقت دیا جب نمازی بہت زیادہ ہو گئے تھے اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی جب امام منبر پر بیٹھا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 915]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيدصحابي صغير
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← السائب بن يزيد الكندي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد
Newعقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 915 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 915
حدیث حاشیہ:
صاحب تفہیم البخاری حنفی دیوبندی کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جمعہ کی اذان کا طریقہ پنج وقتہ اذان سے مختلف تھا۔
اور دونوں میں اذان نماز سے کچھ پہلے دی جاتی تھی۔
لیکن جمعہ کی اذان کے ساتھ ہی خطبہ شروع ہو جاتا تھا اور اس کے بعد فوراً نماز شروع کر دی جاتی۔
یہ یاد رہے کہ آج کل جمعہ کا خطبہ شروع ہونے پر امام کے سامنے آہستہ سے مؤذن جواذان دیتے ہیں۔
یہ خلاف سنت ہے۔
خطبہ کی اذان بھی بلند جگہ پر بلند آوازہونی چاہیے۔
ابن منیر کہتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے کوفہ والوں کا رد کیا جو کہتے ہیں کہ خطبہ سے پہلے منبر پر بیٹھنا مشروع نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 915]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:915
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض اہل کوفہ کے نزدیک اذان کے وقت خطیب کا منبر پر بیٹھنا غیر مشروع ہے جبکہ امام مالک، شافعی اور جمہور فقہاء رحمہم اللہ نے اسے سنت قرار دیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے بھی ان حضرات کی تائید میں یہ عنوان قائم کیا ہے۔
(فتح الباري: 510/2) (2)
اس میں اختلاف ہے کہ اذان کے وقت منبر پر بیٹھنا استراحت کے لیے ہے یا اذان کو اطمینان و سکون سے سننے کے لیے ہے۔
جو حضرات اسے استراحت کے لیے قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک جمعہ و عیدین میں کوئی فرق نہیں اور جن کے نزدیک یہ بیٹھنا استماع اذان کے لیے ہے ان کا کہنا ہے کہ جمعہ میں بیٹھنا مشروع ہے اور عیدین میں بیٹھنا درست نہیں کیونکہ وہاں تو اذان نہیں ہوتی۔
(3)
علامہ عینی ؒ نے لکھا کہ امام بخاری ؒ کو بایں الفاظ عنوان قائم کرنا چاہیے تھا:
جب امام منبر پر بیٹھے تو اس وقت اذان دینے کا بیان کیونکہ حدیث سے یہی ثابت ہو رہا ہے۔
(عمدۃ القاري: 76/2)
لیکن امام بخاری ؒ کے عنوان میں زیادہ وزن ہے جیسا کہ ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 915]