یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
صلح کا بیان
حدیث نمبر: 737
وعن أبي حميد الساعدي رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا يحل لامرىء أن يأخذ عصا أخيه بغير طيبة نفس منه» . رواه ابن حبان والحاكم في صحيحيهما.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا عصا (لاٹھی) بھی اس کی خوشنودی و رضامندی کے بغیر لے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 737]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الإحسان):7 /587، حديث:5946 (الموارد)، حديث:1166، والحاكم:3 /637، وللحديث شواهد.»
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 737 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 737
تخریج:
«أخرجه ابن حبان (الإحسان):7 /587، حديث:5946 (الموارد)، حديث:1166، والحاكم:3 /637، وللحديث شواهد.» تشریح:
علامہ ”الیمانی“ بیان کرتے ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث کے بعد یہ حدیث ذکر کر کے دراصل اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس میں ممانعت تنزیہی ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا آخری قول ہے‘ مگر اس تاویل کی ضرورت تو تب ہے جب دونوں احادیث میں جمع و تطبیق مشکل ہو‘ حالانکہ یہاں تطبیق ظاہر ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث خاص ہے اور یہ حدیث عام ہے۔
جس طرح زکاۃ وصول کرنے اور بعض دیگر مالی معاملات میں زبردستی جائز ہے اسی طرح یہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل بھی ہمسائے کی (بلاوجہ) ناراضی کے باوجود جائز ہے۔
(سبل السلام)
«أخرجه ابن حبان (الإحسان):7 /587، حديث:5946 (الموارد)، حديث:1166، والحاكم:3 /637، وللحديث شواهد.»
علامہ ”الیمانی“ بیان کرتے ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث کے بعد یہ حدیث ذکر کر کے دراصل اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس میں ممانعت تنزیہی ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا آخری قول ہے‘ مگر اس تاویل کی ضرورت تو تب ہے جب دونوں احادیث میں جمع و تطبیق مشکل ہو‘ حالانکہ یہاں تطبیق ظاہر ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث خاص ہے اور یہ حدیث عام ہے۔
جس طرح زکاۃ وصول کرنے اور بعض دیگر مالی معاملات میں زبردستی جائز ہے اسی طرح یہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل بھی ہمسائے کی (بلاوجہ) ناراضی کے باوجود جائز ہے۔
(سبل السلام)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 737]
Bulughul Maram Hadith 737 in Urdu