🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
شرکاء کا راستے کی چوڑائی میں اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 895
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، نا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ عَلَى سَبْعَةِ أَذْرُعٍ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگوں کا راستے کے متعلق اختلاف ہو جائے تو اسے سات ہاتھ مقرر کر لو۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الاقضية/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: «السابق .»


مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 895 کے فوائد و مسائل
 الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 895
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جب شرکاء راستے کی چوڑائی میں جھگڑ پڑیں تو وہ چوڑائی سات ذراع (یعنی سات ہاتھ) ہوگی۔ ہاتھ سے مراد پنجے سے کہنی تک کا فاصلہ ہے جو دو بالشت یعنی آٹھ گرہ یا ڈیڑھ فٹ کے برابر ہے۔ سات ذراع کی مقدار ساڑھے تین گز یا ساڑھے دس فٹ کے برابر ہے، لیکن سات فٹ یہ کم از کم ہے۔ موجودہ دور کاروں، بسوں وغیرہ کا ہے، تو اس لیے ان کی مناسبت سے حد مقرر کی جائے، لہٰذا نئی کالونیوں کے نقشے تیار کرتے وقت زیادہ سے زیادہ چوڑائی رکھنی چاہیے، اگر نہیں تو کم از کم سات ہاتھ۔
اور اسی طرح ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے کہا: جو دکاندار راستے پر بیٹھتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ اگر راستہ سات ہاتھ سے زیادہ ہے تو سات ہاتھ چھوڑ کر باقی حصے میں بیٹھیں، اگر سات ہاتھ کے اندر اندر یہ بیٹھتے ہیں تو ان کو منع کیا جائے تاکہ چلنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 895]

Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 895 in Urdu