علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. باب النهي عن مبادرة الأئمة بالركوع والسجود:
امام سے پہلے رکوع و سجود میں جانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1354
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ إِذَا كَانَ يَؤُمُّهُمْ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَأَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ، وَقَالَ:"إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي وَأَمَامِي".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کی ترغیب دی، اور جب وہ آپ کی امامت میں رکوع و سجدہ کریں تو مسابقت سے منع کیا، اور اس سے منع کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سلام پھیریں، اور فرمایا کہ: ”میں تم کو اپنے پیچھے اور آگے ہر طرف سے دیکھتا ہوں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1356] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 426] ، [أبوداؤد 626] ، [أبويعلی 3952] ، [ابن أبى شيبه 328/2]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 426] ، [أبوداؤد 626] ، [أبويعلی 3952] ، [ابن أبى شيبه 328/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 1351 سے 1354)
ان روایات سے رکوع اور سجود یا سلام میں امام پر مسابقت کرنے یعنی امام سے پہلے رکوع و سجود میں چلے جانے کی سخت ممانعت ہے، بلکہ علماء نے اسے حرام قرار دیا ہے اور ایسے شخص کی نماز باطل ہو جائے گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا کہ ”ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سر یا منہ گدھے کا سا بنا دے“، یہ عقوبۃ عاجلہ بھی ہو سکتی ہے اور اخروی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
شارح ترمذی علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں دمشق کے ایک محدث کا واقعہ ذکر کیا ہے جو نقاب لگا کر درس دیا کرتے تھے، استفسار پر بتایا کہ میں نے جب یہ حدیث پڑھی تو سوچا یہ تو مستحیل ہے اور عمداً و قصداً امام سے پہلے سر اٹھایا اور اللہ نے واقعی میرا سر ایسا بنا دیا۔
«(اعاذنا اللّٰه وإياكم منه)» اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے یہ بعید نہیں ہے، بعض علماء نے اس سے مراد آخرت میں ایسا ہونا لیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ گدھے کا سا سر ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عقل خبط ہو جائے گی۔
بہرحال یہ بڑی سزا ہے جو دنیا میں ہو یا آخرت میں، حقیقی ہو یا معنوی، ہر صورت میں موجبِ عذاب ہے، اس لئے امام پر سبقت لے جانے یعنی امام سے پہلے رکوع یا سجدے میں جانے سے ڈرنا اور رک جانا چاہیے۔
ان روایات سے رکوع اور سجود یا سلام میں امام پر مسابقت کرنے یعنی امام سے پہلے رکوع و سجود میں چلے جانے کی سخت ممانعت ہے، بلکہ علماء نے اسے حرام قرار دیا ہے اور ایسے شخص کی نماز باطل ہو جائے گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا کہ ”ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سر یا منہ گدھے کا سا بنا دے“، یہ عقوبۃ عاجلہ بھی ہو سکتی ہے اور اخروی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
شارح ترمذی علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں دمشق کے ایک محدث کا واقعہ ذکر کیا ہے جو نقاب لگا کر درس دیا کرتے تھے، استفسار پر بتایا کہ میں نے جب یہ حدیث پڑھی تو سوچا یہ تو مستحیل ہے اور عمداً و قصداً امام سے پہلے سر اٹھایا اور اللہ نے واقعی میرا سر ایسا بنا دیا۔
«(اعاذنا اللّٰه وإياكم منه)» اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے یہ بعید نہیں ہے، بعض علماء نے اس سے مراد آخرت میں ایسا ہونا لیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ گدھے کا سا سر ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عقل خبط ہو جائے گی۔
بہرحال یہ بڑی سزا ہے جو دنیا میں ہو یا آخرت میں، حقیقی ہو یا معنوی، ہر صورت میں موجبِ عذاب ہے، اس لئے امام پر سبقت لے جانے یعنی امام سے پہلے رکوع یا سجدے میں جانے سے ڈرنا اور رک جانا چاہیے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1354 in Urdu
مختار بن فلفل القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري