سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب من هاب الفتيا وكره التنطع والتبدع:
ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
حدیث نمبر: 136
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: مَا لَكَ لَا تَقُولُ فِي الطَّلَاقِ شَيْئًا؟، قَالَ: "مَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُ عَنْهُ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُحِلَّ حَرَامًا، أَوْ أُحَرِّمَ حَلَالًا".
جعفر بن ایاس نے کہا: میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کہا: کیا بات ہے آپ طلاق کے مسئلے میں کچھ لب کشائی نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: طلاق سے متعلق کوئی بات ایسی نہیں جس کا میں نے سوال نہ کیا (یعنی اس کا علم حاصل نہ کیا ہو) لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیدوں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 136] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، امام دارمی کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کبار تابعین میں سے ہیں جو اپنے وقت کے امام و فقیہ تھے۔ [الخلاصة ص: 136]
اس روایت کی سند صحیح ہے، امام دارمی کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کبار تابعین میں سے ہیں جو اپنے وقت کے امام و فقیہ تھے۔ [الخلاصة ص: 136]
الرواة الحديث:
جعفر بن أبي وحشية اليشكري ← سعيد بن جبير الأسدي