سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
134. باب كراهية الالتفات فى الصلاة:
نماز میں اِدھر اُدھر التفات مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1461
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَزَالُ اللَّهُ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ، انْصَرَفَ عَنْهُ".
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بندے کی طرف اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ اِدھر اُدھر التفات نہ کرے، جب اپنے چہرے کو نمازی موڑتا ہے تو الله تعالیٰ بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح، [مكتبه الشامله نمبر: 1463] »
یہ روایت اس سند سے عبدالله بن صالح اور ابوالاحوص کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔ دیکھئے: [أحمد 175/5] ، [أبوداؤد 909] ، [نسائي 1194] ، [مجمع الزوائد 245، 2453]
یہ روایت اس سند سے عبدالله بن صالح اور ابوالاحوص کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔ دیکھئے: [أحمد 175/5] ، [أبوداؤد 909] ، [نسائي 1194] ، [مجمع الزوائد 245، 2453]
وضاحت: (تشریح حدیث 1460)
اس حدیث سے نماز میں اِدھر اُدھر التفات کرنے اور دیکھنے کی ممانعت ہے۔
التفات دو طرح سے ہو سکتا ہے۔
نظر گھما کر اِدھر اُدھر دیکھنا تو اس کی احادیث کی روشنی میں گنجائش ہے، اور فرض نماز میں یہ بھی نہ ہو تو بہتر ہے، اور گردن موڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنا یہ منع ہے کیونکہ نماز میں انسان کو یکسو ہو کر سجدے کی طرف نظر رکھنی چاہیے تاکہ دھیان اِدھر اُدھر نہ بنے اور خشوع و خضوع برقرار رہے جو نماز کیلئے اشد ضروری ہے۔
اس حدیث سے نماز میں اِدھر اُدھر التفات کرنے اور دیکھنے کی ممانعت ہے۔
التفات دو طرح سے ہو سکتا ہے۔
نظر گھما کر اِدھر اُدھر دیکھنا تو اس کی احادیث کی روشنی میں گنجائش ہے، اور فرض نماز میں یہ بھی نہ ہو تو بہتر ہے، اور گردن موڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنا یہ منع ہے کیونکہ نماز میں انسان کو یکسو ہو کر سجدے کی طرف نظر رکھنی چاہیے تاکہ دھیان اِدھر اُدھر نہ بنے اور خشوع و خضوع برقرار رہے جو نماز کیلئے اشد ضروری ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذر | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو ذر الغفاري | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥أبو الأحوص مولى بني ليث، أبو الأحوص أبو الأحوص مولى بني ليث ← سعيد بن المسيب القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو الأحوص مولى بني ليث | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥عبد الله بن صالح الجهني، أبو صالح عبد الله بن صالح الجهني ← الليث بن سعد الفهمي | مقبول |
Sunan Darmi Hadith 1461 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو ذر الغفاري