علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
155. باب فى صلاة الليل:
رات کی نماز کا بیان
حدیث نمبر: 1498
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: "مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ مَا قَدْ صَلَّى".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ) دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو وہ ایک رکعت وتر پڑھ لے، وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1500] »
اس روایت کی سند قوی ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 472، 990] ، [مسلم 749] ، [أبوداؤد 1326] ، [نسائي 1693] ، [أبويعلی 2623] ، [ابن حبان 2426]
اس روایت کی سند قوی ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 472، 990] ، [مسلم 749] ، [أبوداؤد 1326] ، [نسائي 1693] ، [أبويعلی 2623] ، [ابن حبان 2426]
وضاحت: (تشریح حدیث 1497)
رات کی نماز قیام اللیل یا صلاة التہجد کے نام سے معروف و مشہور ہے اور اس کو صلاة التراویح بھی کہا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی جواب دیا کہ وہ دو دو رکعت ہے، کتنی ہے یہ نہیں بتایا، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان اور غیر رمضان میں کبھی بھی رات کی نماز گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ تہجد یا تراویح صرف گیارہ رکعت ہے، اور تین دن جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت سے تراویح پڑھائی وہ بھی گیارہ رکعت تھی، اس لئے سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت تراویح ہی ہے، اگر کوئی زیادہ پڑھنا چاہے تو ممانعت نہیں ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو قاری دس دس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں 36 اور کسی زمانے میں 42 رکعت تراویح بھی حرم شریف میں پڑھی گئی ہے اور غالباً یہ اسی لئے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی اس نماز کی رکعتوں کی تحدید نہیں کی۔
واللہ اعلم، اور وتر کا بیان آگے ابواب الوتر میں آرہا ہے، کتنی پڑھنی چاہئے اور کس طرح؟
رات کی نماز قیام اللیل یا صلاة التہجد کے نام سے معروف و مشہور ہے اور اس کو صلاة التراویح بھی کہا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی جواب دیا کہ وہ دو دو رکعت ہے، کتنی ہے یہ نہیں بتایا، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان اور غیر رمضان میں کبھی بھی رات کی نماز گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ تہجد یا تراویح صرف گیارہ رکعت ہے، اور تین دن جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت سے تراویح پڑھائی وہ بھی گیارہ رکعت تھی، اس لئے سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت تراویح ہی ہے، اگر کوئی زیادہ پڑھنا چاہے تو ممانعت نہیں ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو قاری دس دس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں 36 اور کسی زمانے میں 42 رکعت تراویح بھی حرم شریف میں پڑھی گئی ہے اور غالباً یہ اسی لئے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی اس نماز کی رکعتوں کی تحدید نہیں کی۔
واللہ اعلم، اور وتر کا بیان آگے ابواب الوتر میں آرہا ہے، کتنی پڑھنی چاہئے اور کس طرح؟
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم خالد بن مخلد القطواني ← مالك بن أنس الأصبحي | مقبول |
Sunan Darmi Hadith 1498 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي