🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
207. باب فى الوتر:
وتر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1616
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيَّ ثُمَّ الْجُمَحِيَّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَسْكُنُ بِالشَّامِ، وَكَانَ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ الْمُخْدَجِيَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الشَّامِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَرَاحَ الْمُخْدَجِيُّ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ، جَاءَ وَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ، أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
ابن محیریز قرشی جمحی نے جو کہ ملک شام میں رہتے تھے، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا۔ انہوں نے خبر دی کہ بنوکنانہ کے ایک آدمی مخدجی نے انہیں بتایا کہ ملک شام میں ایک شخص جن کی کنیت ابومحمد تھی اور جو صحابی تھے، انہوں نے کہا کہ وتر واجب ہے، مخدجی سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ بات ان سے ذکر کی تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابومحمد نے جھوٹ کہا، میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا، جو شخص ان نمازوں کو لے کر آئے گا اس حال میں کہ ان کا پورا حق ادا کیا ہو، کسی قسم کی ادائیگی میں کمی نہ کی ہو، تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ اس کو جنت میں داخل کر دے، اور جو شخص ان نمازوں کو نہیں لے کر آیا (یعنی اہمیت نہ سمجھتے ہوئے نمازوں کو ترک کیا) تو الله تعالیٰ کا کوئی عہد و قرار نہیں ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1616]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1618] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1420] ، [نسائي 460] ، [ابن ماجه 1401] ، [الطيالسي 254]
وضاحت: (تشریح حدیث 1615)
یعنی تارک صلاة تحت مشيۃ الله تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو عذاب میں مبتلا کر دے، مطلب یہ کہ وہ بڑے خطرے میں ہے، حدیث صحیح میں ہے: جو جان بوجھ کر نماز ترک کر دے اس نے کفر کیا، اور کافر جنّت میں نہیں جائے گا۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليدصحابي
👤←👥رفيع المخدجي، أبو رفيع
Newرفيع المخدجي ← عبادة بن الصامت الأنصاري
مقبول
👤←👥عبد الله بن محيريز الجمحي، أبو محيريز
Newعبد الله بن محيريز الجمحي ← رفيع المخدجي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الأنصاري ← عبد الله بن محيريز الجمحي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← محمد بن يحيى الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة متقن