علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
209. باب كم الوتر:
وتر کتنی رکعت ہے؟
حدیث نمبر: 1623
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: "مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ، مَا قَدْ صَلَّى". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَأْخُذُ بِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو دو رکعت ہے، پھر جب کوئی صبح ہو جانے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کو طاق بنا دے گی۔“ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ بھی یہ کہتے ہیں؟ کہا: ہاں۔ (یعنی ایک رکعت وتر پڑھنا درست ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1625] »
اس روایت کی سند جید اور یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور (1498) نمبر پر گذر چکی ہے۔
اس روایت کی سند جید اور یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور (1498) نمبر پر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1621 سے 1623)
یعنی دو دو رکعت کر کے جتنی رکعت چاہے پڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحدید نہیں کی کہ کتنی رکعت پڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ 13 رکعت پڑھی ہیں جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں گذر چکا ہے، لہٰذا اسی پر اکتفا کیا جائے تو سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق ہے، اور زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وسلم 11 رکعت ہی پڑھتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث میں بھی مذکور ہے۔
یعنی دو دو رکعت کر کے جتنی رکعت چاہے پڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحدید نہیں کی کہ کتنی رکعت پڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ 13 رکعت پڑھی ہیں جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں گذر چکا ہے، لہٰذا اسی پر اکتفا کیا جائے تو سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق ہے، اور زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وسلم 11 رکعت ہی پڑھتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث میں بھی مذکور ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم خالد بن مخلد القطواني ← مالك بن أنس الأصبحي | مقبول |
Sunan Darmi Hadith 1623 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي