🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب فى صيام الستة من شوال:
شوال کے چھ روزے رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1793
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "صِيَامُ شَهْرٍ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَسِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَهُنَّ بِشَهْرَيْنِ، فَذَلِكَ تَمَامُ سَنَةٍ"، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ، وَسِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایک سال کے روزے اس طرح ہوئے) کہ ایک مہینے کے روزے دس مہینے کے ہوئے اور ان کے بعد چھ دن کے روزے دو مہینے کے روزے ہوئے، اس طرح بارہ مہینے ہو گئے اور ایک سال پورا ہو گیا۔ یعنی ایک مہینہ رمضان اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1796] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 1715] ، [ابن حبان 3635] ، [موارد الظمآن 928]
وضاحت: (تشریح احادیث 1791 سے 1793)
ابن ماجہ میں ہے: یہ فرمانِ الٰہی: «﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ...﴾ [الانعام: 160] » کے مطابق ہے کہ جو ایک نیکی لے کر آئے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اب 36 کو 10 سے ضرب دیجئے تو 360 دن بنتے ہیں، لہٰذا جس شخص نے 36 دن کے روزے رکھے تو اس کو پورے سال روزے رکھنے کا ثواب مل گیا، سبحان رب ذوالجلال رحیم و کریم کی کتنی عنایت و مہربانی ہے کہ روزے سوا مہینے کے اور ثواب پورے سال کا، شوال کے یہ روزے شروع شوال، وسط یا آخر میں کبھی بھی رکھے جا سکتے ہیں، اور یکبارگی مسلسل یا متفرق طور پر بھی رکھے جا سکتے ہیں، لیکن «ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتَّةً» سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ شروع شوال میں یکبارگی رکھے جائیں تو بہتر ہے۔
واللہ اعلم۔
واضح رہے کہ بعض ائمہ نے رمضان کے بعد شش عیدی روزوں کو مکروہ کہا ہے جو صحیح نہیں، ہو سکتا ہے ان کو مذکورہ بالا احادیثِ صحیحہ کا علم نہ ہو۔
علامہ وحیدالزماں رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں: اور قولِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کسی کا قول نہیں سنا جاتا اور شمس کے آگے چراغ جلانا حماقت ہے۔
«انتهىٰ كلامه.»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن مرثد الرحبي، أبو أسماء
Newعمرو بن مرثد الرحبي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن الحارث الغساني، أبو عمرو، أبو عمر
Newيحيى بن الحارث الغساني ← عمرو بن مرثد الرحبي
ثقة
👤←👥يحيى بن حمزة الحضرمي، أبو عبد الرحمن
Newيحيى بن حمزة الحضرمي ← يحيى بن الحارث الغساني
ثقة رمي بالقدر
👤←👥يحيى بن حسان البكري، أبو زكريا
Newيحيى بن حسان البكري ← يحيى بن حمزة الحضرمي
ثقة إمام