سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب فى فضل العمل فى العشر:
ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں عمل کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا الْعَمَلُ، فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْ الْعَمَلِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ". قِيلَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:"وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالحجہ کے دس دن کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں اتنی فضیلت نہیں“، پوچھا گیا: کیا جہاد کی بھی اتنی فضیلت نہیں؟ فرمایا: ”ہاں، جہاد بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرے میں ڈال کر نکلا، اور کچھ بھی لے کر واپس نہ آیا۔“ (یعنی جان و مال سب قربان کر دیا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1814] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 969] ، [أبوداؤد 2438] ، [ترمذي 757] ، [ابن ماجه 1727] ، [طيالسي 2631] ، [أحمد 224/6] ، [طبراني فى الكبير 12278] ، [أبويعلی 7248] ، [ابن حبان 5623] ، [مجمع الزوائد 6007]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 969] ، [أبوداؤد 2438] ، [ترمذي 757] ، [ابن ماجه 1727] ، [طيالسي 2631] ، [أحمد 224/6] ، [طبراني فى الكبير 12278] ، [أبويعلی 7248] ، [ابن حبان 5623] ، [مجمع الزوائد 6007]
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي